کتنے فیصد لڑکیاں سکول نہیں جاتیں؟بلند و بانگ دعوے کرنیوالی خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

پشاور(اے این این ) غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کے شعبہ تعلیم کے حوالے سے پیش کی گئی ایک رپورٹ پیش میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ صوبے بھر میں 51 فیصد لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں۔نجی ٹی وی کے مطابق الف اعلان نامی تنظیم کی اس رپورٹ میں خیبرپختونخوا میں 5 برسوں کی تعلیمی چلینجز اور اصلاحات کا جائزہ لیا گیا، اس رپورٹ کی تقریب رونمائی میں تعلیم کے وزیر محمد عاطف خان

اور دیگر ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔رپورٹ میں پاکستان ایجوکیشن اسٹیٹ اسٹکس کے 16-2015 کے اعداد و شمار کو نقل کرتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں لڑکیاں زیادہ نقصان میں ہیں اور 51 فیصد لڑکیاں اسکول نہیں جاتی۔رپورٹ میں صوبائی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اسکولوں میں کلاس رومز، چار دیواری، پینے کا پانی اور واش رومز سمیت دیگر ترقیاتی کاموں پر 30 ارب روپے خرچ کیے۔اس رپورٹ کے مطابق انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں خیبرپختونخوا دیگر صوبوں کی بنسبت سب سے آگے ہے، تاہم سب سے بڑا چیلنج پرائمری اسکول کے تمام بچوں کو اسکول جانے کا اختیار دینے کا ہے اور حکومت کے لیے سب سے اہم چلینج 10 سے 16 سال کے بچوں کو ہائی اور ہائر سیکینڈری اسکول بھیجنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ تمام اسکولوں میں سے 9.76 فیصد مڈل اسکول اور 8.13 فیصد ہائی اسکول موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ فرق بہت اہم ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت 5 سال سے 16 سال کی عمر کے تمام بچوں کو تعلیم کا حق ہے۔اس کے مطابق پرائمری اسکول مڈل اور ہائی اسکول کے مقابلے میں مجموعی طور پر زیادہ ہیں ان کا تناسب 4:1 ہے اور ہائی اسکول کے مقابلے میں پرائمری اسکول میں داخلوں کی تعداد میں

کچھ حد تک جبکہ ہائی اسکول میں کافی حد تک بہتری دیکھی گئی۔پرائمری اسکول میں داخلوں کی شرح داخلوں کی شرح بڑھ کر 4.54 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ مڈل اسکول میں یہ شرح 2.3 فیصد اور ہائی اسکول میں 26.96 فیصد رہی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے تعلیم کے معیار میں کمی پر بھی توجہ مرکوز نہیں کی گئی جبکہ خیبرپختونخوا کے اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعلیمی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ہنگامی طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔