سول سروسز امتحانات اور اصلاحات

حکومت سول سروسز میں اصلاحات کرنا چاہتیہے۔مگر یہ نہ ہو سکے۔ سنٹرل سپیرئیر سروسز یا سی ایس ایس 2017کے امتحانی نتائج کا اعلان کیا۔ جس کے تحت 9391میں سے صرف312امیدوار کامیاب ہوئے۔کامیابی کا تناسب 3.32فی صد ہونا حیران کن ہے۔2016میں 12176میں سے379امیدوار کامیاب ہوئے۔یہ تناسب بھی 3.02 تھا۔یہ امتحان ایف پی ایس سی لیتی ہے۔ اس کے چیئر مین نوید اکرم چیمہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری وفاقی کابینہ کو بریفننگ میں اسباب کیا بیان کرتے ہیں ۔وہ اصلاحات کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ یہ معلوم نہیں۔ پاکستان میں سول سروسز میں شمولیت سے لے کر تقرریوں اور تعیناتیوں ، فیصلوں کے عمل در آمد تک زیادہ کردار سیاستدان ہی اداکرتے ہیں۔ بیوروکریسی کو اپنی مغز زیادہ کھپانے کی زحمت نہیں دی جاتی۔ جبکہ ضرورت ایسی بیوروکریسی کی ہوتی ہے جو اپنے سیاسی رہنما کے ویژن کے مطابق کام کریں۔ وہ کوئی وزیر اعظم، وزیر یا مشیر ہوتا ہے۔ ان حالت میں ایک سیکریٹری، کمشنر، ایم ڈی، ڈی جی، ڈائریکٹر وغیرہ کا کام صرف کاغذ تک محدود رہتا ہے۔ وہ صرف کلرکی کرتا ہے۔ یا ریکارڈ کیپر بن کر رہ جاتا ہے۔ اگر ملک کو چلانے والا دماغ کلرک یا ریکارڈ کیپر بن جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایسے ملک کی ترقی ، بہترین منصوبہ بندی کا گراف کس طرٖ ف جائے گا۔ سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیئے کہ سول سروسز میں شمولت کا ہمارا طریقہ کار کیا ہے۔ کیا اس طریقہ کار کے مطابق ہم بیروکریسی کے لئے اہم دماغ یا ٹیلنٹ کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ افسوس ہے کہ اس کا جواب نفی میں دیا جا سکتا ہے۔ ملک میں سب سے بڑا امتحان بھی یہی ہوتا ہے۔ سنٹرل سپیریئر سروسز(سی ایس ایس )۔ یہ بلا شبہ ایک پیہہ ہے جس پر حکومت کا انجن چلتا ہے۔ یہ بھی انگریزوں کی دین ہے۔ انہون نے برصغیر کو چلانے کے لئے جو نظام دیئے ان میں سے یہ بھی ایک تھا۔ جو کہ سول سروسز کہلاتا تھا۔ قیام پاکستان کے وقت یہ سول سروسز آف پاکستان کہلایا۔ یہاں اب بھی اس میں شمولیت کا جو نظام ہے وہ انتہائی دقیانوسی ہے۔ دقیانوسی اس لئے کہ یہ ہمیں رٹہ سسٹم کی طرف لے جاتا ہے۔ اس سے ہم کسی طور پر بھی یہ نہیں سمجھ پاتے کہ یہ کس طرح ایک امیدوار کی قابلیت کو سامنے لا سکتا ہے۔ ایک بیوروکریٹ جو اس رائج امتحان کے بعد سروسز اکیڈمی میں تربیت کے بعد اسسٹنٹ کمشنر بن جاتا ہے۔ امتحان سے یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ وہ حالات کا بروقت جائزہ لے کر درست فیصلہ کر سکتا ہے۔ یا بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یا وہ مختلف ٹاسک قابلیت سے انجام دے سکتا ہے۔ یا کسی کیس کو حل کر پائے گا۔ یا اس کی عوام کے ساتھ ڈیلنگ منفرد ہو گی یا وہ بہترین منصوبہ بندی اور اس پر عمل در آمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یا پھر صرف چاپلوسی اور جی حضوری کرنے کا اہل ہو اگا۔

پاکستان کی سول سروسز کو اعلیٰ دماغوں کی ضرورت ہے جو لاکھوں میں سے ایک ہوں۔ جن کی صلاحیت غیر معمولی ہو۔ جو ہر شعبہ ہائے زندگی کی خبر رکھتے ہوں۔ جو منصف مزاج ہی نہ ہوں بلکہ انھوں نے اپنی تعلیمی زندگی میں سماجی خدمات کا کوئی کارنامہ ایسا انجام دیا ہو جس کی وجہ سے اس کی اہلیت میں اضافہ ہو یا اس کی وجہ سے اس کے نمبرات بڑھ سکیں۔ ہمارے ہاں تعلیم کا معیار ایسا ہے کہ اس کی بنیاد پر کسی کی قابلیت یا اہلیت کا پتہ چلانا کافی مشکل ہے۔ سی ایس ایس امتحان بھی ایساہی ہے۔ اس کا سٹریکچر بھی ایک مسلہ ہے۔ امیدوار کو 6لازمی مضامین کے تحریری امتحان میں شامل ہونا ہوتا ہے۔ جن میں سے ہر ایک کے 100مارکس ہوتے ہیں۔ باقی 600نمبرات کے لئے آپشنل مضامین کی فہرست میں سے لینے ہوتے ہیں۔ ان مضامین کے 100سے 200مارکس ہوتے ہیں۔ چھ لازمی سبجیکٹس میں سے مضمون، انگریزی، ایوری ڈے سائینس، کرنٹ افیئرز، پاکستان افیئرز اور اسلامیات ہیں۔ ان مضامین کا انتخاب کسی طور امیدوار کی عملی زندگی میں صلاحیت اور اہلیت کو ظاہر نہیں کر سکتا ہے۔ زیادہ تر لوگ مضمون نویسی میں فیل ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ انہیں برٹش انگریزی دان کے طور پر خود کو پیش کرنا ہوتا ہے۔ ایک امیدوار کا سارا فوکس زیادہ سے زیادہ نمبرات پر ہوتا ہے۔ اس کے لئے وہ وہی رٹہ لگاتا ہے۔ مضامین کا گہرائی سے مطالعہ، ان کی عملی زندگی میں اہمیت و افادیت یا ان پر عمل در آمد سے اسے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ سی ایس ایس امتحان میں کامیابی کے لئے ایسے مضامین کا انتخاب کیا جاتا ہے جو ہائی سکورننگ ہوں۔ جو زیا دہ سے زیادہ مارکس کا سبب بن سکیں۔ نیز ان امتحانات کا گریڈنگ سسٹم بھی سنٹرلائز نہیں ہے۔ اب ایک دن میں دو پیپرز کے بجائے ایک ہی کا امتھان لینے کا فیصلہ احسن قدم ہے۔یہ ایک ایگزامنر تک ہے کہ وہ کسی امیدوار کو نمبرات دینے میں کیا معیار متعین کرتا ہے۔ اس کا اس وقت موڈ کیسا ہو گا۔ یہ پیپر چیک کرنے والے ایک پروفیسر یا ماہر مضمون تک ہی ہو گا کہ وہ کس طرح گریڈنگ کرتا ہے۔ یعنی سب کچھ اسی کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ جبکہ پیپر چیکنگ، کاؤنٹر چیکنگ کا کوئی سنٹرل نظام ہونا چاہیئے۔ ہمیں ایسے افسر کی کیا ضرورت جو صرف اپنا پیکیج زیادہ کرنے کا فن جانتا ہو اور اپنے ماتحت کی کوئی فکر نہ کرے۔

یہ فارمولہ برٹش انڈیا کے دور کا ہے۔ جب کہ برطانیہ میں آج سول سروسز میں ریکروٹمنٹ یا شمولیت کا طریقہ کار مختلف ہے۔ وہاں شمولیت کا پراسس مختلف مراحل سے ہو کر مکمل ہوتاہے۔ سول سروسز میں ملازمتوں کے لئے ڈائریکٹ سسٹم سے بھی انٹری ہوتی ہے۔ یہ فکس مدت کے لئے کنٹریکٹ، یا فل ٹائم ، پارٹ ٹائم پر مبنی ہوتی ہے۔ گریجویٹس کے لئے فاسٹ سٹریم پروگرام ہے۔ دو سال کی فاسٹ ٹریک سکیم بھی ہے۔ سمر انٹرن شپ پروگرام بھی ہے۔ یہ پہلا مرحلہ ہے۔ جس کے بعد انٹرویو سکیم ہے۔ کامیاب امیدوار پری ایمپلائمنٹ چیک سے گزرتے ہیں۔ بعض محکمے سکیورٹی کلیئرنس مانگتے ہیں۔ برطانیہ کی سول سروسز میں شمولیت سول سروسزکمیشن کے ریکروٹمنٹ رہنما اصولوں کے تحت ہوتی ہے۔ اگر امیدوار کو محسوس ہو کہ اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے تو وہ متعلقہ محکمے میں شکایت درج کر سکتا ہے۔ اگر وہ اس سے مطمئن نہ ہوا تو سول سروسز کمیش کو شکایت کر سکتا ہے۔ وہاں سول سروسز کے کچھ قائدے قانون ہیں۔ اقدار ہیں۔ جنھیں سول سروسز کوڈ کہا جاتا ہے۔ جو متعین ہیں۔ کوئی ان سے بالا تر نہیں۔ پاکستان میں سول سروسز میں شمولیت کے لئے لیا جانے والے امتحان دو سٹیجز پر مشتمل ہے۔کوٹہ سسٹم پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔آئین کے آرٹیکل 47کے تحت یہ 40سال کے لئے صوبوں کو ملا تھا۔ یہ مدت 2013میں ختم ہو چکی ہے۔اس پر بھی از سر نو غور ہونا ہے۔سی ایس ایس کے لئے اصلاحات ضروری ہیں۔ لیکن یہ کون کرے گا۔ پالیسی ساز خود غرض نہ ہوں اور قوم کے لئے فکر مند ہوں تو بہتری ممکن ہیں

معاشرے میں خواتین کا کردار

اسلام سے قبل جہالت کے دور میں خواتین کو انتہائی ذلت کا سامنا تھا خصوصاََ جب کسی کے گھر بچی پیدا ہوتی تھی تو لوگ شدید ذلت محسوس کرتے تھے اور بچیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے مگر جب نبی کریم ﷺ نے نبوت کا اعلان کیا اور لوگوں کو بتایا کہ جس گھر میں بچی پیدا ہوتی ہے اس گھر میں رحمت اور برکت ہوتی ہے اس لئے ان کی عزت کروا ور انہیں زندہ دفن نہ کرو نبی ﷺ خودعورتوں کو احترام کرتے اور جب حضرت بی بی فاطمہ ؓ تشریف لاتیں تو ان کے لئے اپنی چادر بیچھا دیتے تھے اسلام میں خواتین کو ایک خاص مقام حاصل ہے کیونکہ خواتین نے اسلام کے پھیلانے اور مختلف غزوات میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ موجودہ دور میں بھی خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ سر گرم عمل ہیں آج کے دورمیں خواتین صرف گھروں تک محدود نہیں ہیں بلکہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے لے کر کھیتوں تک میں اپنا بھر پور کر دار ادا کر رہی ہیں مگر مردوں کے اس معاشرے میں آج بھی انہیں عزت و توقیر سے نہیں نوازہ جاتا جبکہ وہ نا تواں ہونے کے با جود ہونے کے با وجود ہوائی جہاز بھی اڑا رہی ہیں اور تھر جیسے علاقے میں کان کنی کے لئے ہیوی ڈیوٹی ٹرکس اورٹرالے بھی چلا رہی ہیں یعنی کسی بھی شعبے میں مردوں سے پیچھے نہیں ہیں مگر اس کے با وجود مرد انہیں ان کے حقوق دینے کے لئے تیار نہیں ہیں وہ طرح طرح سے انہیں ہراس کرتے ہیں انہیں کام کی پوری اجرت نہیں دیتے ہیں اور ان کی ترقی اور کامیابی میں معاون بنے کے بجائے انہیں تنقید اوربعض مرتبہ شدید عدم تحفظ کا نشانہ بناتے ہیں پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے مختلف قوانین بنائے گئے ہیں مگر ان قوانین پر عمل در آمد نہ ہونے کے برابر ہے اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ قوانین بنانے والے بھی مرد حضرات ہوتے ہیں خواتین کے حقوق کے لئے کچھ این جی اوز اور سول سو سائٹی کے افراد احتجا ج کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں مگر لگتا ہے یہ سب کچھ رسمی ہے21ویں صدی جو جدید سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی صدی کہلاتی ہے اور دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے مگر اس کے با وجود مردوں میں جہالت ختم نہیں ہوئی وہ آج بھی نہ صرف ایک قدامت پسند انسان کے روپ میں ہیں بلکہ کسی بھی عورت کو دفتر میں ،کھیت میں،بازار میں،سٹرک پرحد یہ ہے کہ انڈیا جیسے ملک میں جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہاں پر بھی بسوں میں گینگ ریپ ہوتے ہیں اور پھر تمام ٹی وی چینلز اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے اس واقع کو کئی کئی دن تک دیکھا تے رہتے ہیں ایک طرف تو وہ لڑکی اور اس کا خاندان برباد ہو چکا ہوتا ہے تو دوسری طرف یہ ٹی وی چینلز اس لڑکی کی بربادی کو پوری دنیا میں دیکھا کر تدلیل کرتے ہیں پاکستان میں بھی خواتین شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں کبھی کوئی چھرا مار چھلاوا سر عام سینکڑوں لوگوں کی موجود گی میں لڑکی کو زخمی کر کے فرار ہو جاتا ہے اور تمام تر کوششوں ،تدبیروں کے با وجود وہ پکڑا نہیں جاتا چونکہ اسے پکڑنے والے مرد ہی ہوتے ہیں کسی بھی سرکاری ادارے میں لڑکی کو ملازمت یا ترقی صرف اس لئے نہیں ملتی کہ وہ اپنے باس کی بات سے انکار کرتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب خراب ہیں مگر خرابی زیادہ ہے اور اچھا کم ہے کہا جاتا ہے کہ مرد کی ترقی کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے یعنی کے عورت یہاں پر بھی قربانی دیتی ہے تو مرد ترقی کرتا ہے گاؤں گوٹھوں میں وڈیرے اورچوہدری حواء کی بیٹی کو سرعام برہنہ کر کے تشدد کرتے ہیں مگر پھر بھی ظلم کرنے والے آزاد رہتے ہیں کوئی پیسے کی وجہ سے اور کوئی مرتبے کی وجہ سے اپنے کئے کی سزا سے بچ جاتا ہے جو لوگ لڑکیوں اور بچیوں پراس طرح کا ظلم اور جبر کرتے ہیں وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کی اپنی بھی بہن بیٹیا ں ہوتی ہیں وہ غیرت کے نام پر تو اپنے بہن بیٹی یا بیوی کو قتل کر دیتے ہیں مگر جب وہ خود دوسروں کی بہن بیٹیوں کے ساتھ ہراسمینٹ کرتے ہیں تو ان کی غیر ت کہاں چلی جاتی ہے کیا حواء کی بیٹیوں کو یوں ہی ہراس کیا جاتا رہے گا اور غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا رہے گا کیا کوئی بیٹی بھی غیرت کے نام پرریپ کرنے والے مردوں کو انکے انجام تک پہنچائے گی کیا کبھی خواتین کو تحفظ حاصل ہو سکے گا ؟

کیا دِنوں کا سردار ’’جمعہ‘‘ بلیک ڈے ہو سکتا ہے؟

نومبر کے آخری جمعرات میں یوم شکر انہ (امریکہ کا ایک قومی تہوار) منانے کے بعد نومبر کے آخری جمعہ کو امریکہ وبعض مغربی ممالک میں بلیک ڈے (Black Day) کے نام سے منایا جاتا ہے۔ ۱۹۶۱ء سے اس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ عید شکرانہ (امریکہ کا ایک قومی تہوار) کے بعد آنے والے جمعہ کو امریکا کے شہر فلاڈیلفیا (Philadelphia) میں بہت زیادہ ٹریفک ہونے کی وجہ سے اس دن کو ٹریفک پولس نے بلیک ڈے سے موسوم کیا۔ اب ہر سال نومبر کے آخری جمعہ میں شاپنگ سینٹروں میں بڑے بڑے آفر لگائے جاتے ہیں اور مغربی ممالک کے لوگ اِس دن سے اپنے مذہبی تہوار ’’کرسمس‘‘ کے لیے شاپنگ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ امریکا میں ۲۰۰۵ء سے یہ دن خریداری کے اعتبار سے سال کا سب سے زیادہ مصروف دن بنتا جارہا ہے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں اس جمعہ کو White Friday سے موسوم کرنا چاہئے کیونکہ وہاں کے تاجروں کو اربوں کھربوں ڈالر کا فائدہ اسی دن ہوتا ہے۔ مغربی لوگوں کا اس جمعہ کو بلیک ڈے سے موسوم کرنے سے اسلام میں جمعہ کے مقام پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ شریعت اسلامیہ میں قیامت تک اس دن کو تمام دونوں کا سردار قرار دیا گیاہے، مگر افسوس کی بات صرف یہ ہے کہ مغربی تہذیب کی ہر ادا مشرقی ممالک کو بھلی معلوم ہوتی ہے چنانچہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے بعض ہمارے بھائی بھی نومبر کے آخری جمعہ کو بلیک ڈے سے موسوم کردیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن کو تمام دنوں پر فوقیت دی ہے چنانچہ ہفتہ کے تمام ایام میں صرف جمعہ کے نام سے ہی قرآن کریم میں سورۃ نازل ہوئی ہے جس کی رہتی دنیا تک تلاوت ہوتی رہے گی، ان شاء اللہ۔ نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن کو تمام دنوں سے افضل قرار دیا۔ اسلام نے جمعہ کے دن کو ہفتہ کی عید قرار دیا، چنانچہ نمازِ جمعہ مسلمانوں کی اجتماعیت کا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اسی دن پیدا کیا، اسی دن اُن کو زمین پر اتارا اور اسی دن انہیں موت دی۔ اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اس میں جو چیز بھی اللہ سے مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا فرماتے ہیں۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ جہنم کی آگ روزانہ دہکائی جاتی ہے مگر جمعہ کے دن اس کی عظمت اور خاص اہمیت وفضیلت کی وجہ سے جہنم کی آگ نہیں دہکائی جاتی۔ جمعہ وہ دن ہے جس کے متعلق رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے روز مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، جو آدمی جمعہ کے روز مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ جس جمعہ کے افضل، بہتر اور بابرکت ہونے کے متعلق قرآن وحدیث میں واضح دلائل موجود ہیں تو وہ کیسے Black Day ہوسکتا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جمعہ کے متعلق چند سطریں تحریر کررہا ہوں تاکہ مسلم نوجوان مغربی تہذیب سے متاثر ہوکر کسی بھی جمعہ کو Black Day سے موسوم کرنے کی غلطی نہ کریں۔

جمعہ کا نام جمعہ کیوں رکھا گیا: اس کے مختلف اسباب ذکر کئے جاتے ہیں: (۱) جمعہ جمع سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں جمع ہونا۔ کیونکہ مسلمان اس دن بڑی مساجد میں جمع ہوتے ہیں اور امت مسلمہ کے اجتماعات ہوتے ہیں، اس لئے اس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ (۲) چھ دن میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور تمام مخلوق کو پیدا فرمایا۔ جمعہ کے دن مخلوقات کی تخلیق مکمل ہوئی یعنی ساری مخلوق اس دن جمع ہوگئی اس لئے اس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ (۳) جمعہ کے دن ہی حضرت آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، یعنی ان کو اس دن جمع کیا گیا۔

اسلام کا پہلا جمعہ: یوم الجمعہ کو پہلے یوم العروبہ کہا جاتا تھا۔ نبی اکرمﷺ کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے اور سورۃ الجمعہ کے نزول سے قبل انصار صحابہ نے مدینہ منورہ میں دیکھا کہ یہودی ہفتہ کے دن اور نصاریٰ اتوار کے دن جمع ہوکر عبادت کرتے ہیں۔ لہٰذا سب نے طے کیا کہ ہم بھی ایک دن اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لئے جمع ہوں۔ چنانچہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمعہ کے دن لوگ جمع ہوئے، حضرت اسعد بن زرارۃ رضی اللہ عنہ نے دو رکعات نماز پڑھائی۔ لوگوں نے اپنے اس اجتماع کی بنیاد پر اس دن کا نام یوم الجمعہ رکھا ۔ اس طرح سے یہ اسلام کا پہلا جمعہ ہے۔ تفسیر قرطبی

نبی اکرمﷺ کا پہلا جمعہ: نبی اکرمﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے وقت مدینہ منورہ کے قریب بنو عمروبن عوف کی بستی قبا میں چند روز کے لئے قیام فرمایا۔ قبا سے روانہ ہونے سے ایک روز قبل جمعرات کے دن آپ ﷺ نے مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔ یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی۔ جمعہ کے دن صبح کو نبی اکرمﷺ قبا سے مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوئے۔ جب بنو سالم بن عوف کی آبادی میں پہونچے تو جمعہ کا وقت ہوگیا، تو آپﷺ نے بطن وادی میں اس مقام پر جمعہ پڑھایا جہاں اب مسجد (مسجد جمعہ) بنی ہوئی ہے۔ یہ نبی اکرمﷺ کا پہلا جمعہ ہے۔ تفسیر قرطبی

جمعہ کے دن کی اہمیت کے متعلق چند احادیث:رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں سارے دنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر کے دن سے بھی زیادہ مرتبہ والا ہے۔ اس دن کی پانچ باتیں خاص ہیں: (۱) اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ (۲) اسی دن ان کو زمین پر اتارا۔ (۳) اسی دن ان کو موت دی۔ (۴) اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اس میں جو چیز بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا فرماتے ہیں بشرطیکہ کسی حرام چیز کا سوال نہ کرے۔ (۵) اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ تمام مقرب فرشتے، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر سب جمعہ کے دن سے گھبراتے ہیں کہ کہیں قیامت قائم نہ ہوجائے اس لئے کہ قیامت جمعہ کے دن ہی آئے گی۔ (ابن ماجہ) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سورج کے طلوع وغروب والے دنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں، یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے۔ (صحیح ابن حبان) رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن ارشاد فرمایا: مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے اس دن کو تمہارے لئے عید کا دن بنایا ہے لہذا اس دن غسل کیا کرو اور مسواک کیا کرو۔ (طبرانی، مجمع الزوائد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن ہفتہ کی عید ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل نماز جمعہ کے دن فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہے۔ (طبرانی ، بزار) جہنم کی آگ روزانہ دہکائی جاتی ہے مگر جمعہ کے دن اس کی عظمت اور خاص اہمیت وفضیلت کی وجہ سے جہنم کی آگ نہیں دہکائی جاتی۔ زاد المعاد ۱ / ۳۸۷

جمعہ کے دن قبولیت والی گھڑی کی تعیین :رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا: اس میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے، اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو عنایت فرمادیتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ وہ ساعت مختصر سی ہے۔ (بخاری)رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ گھڑی خطبہ شروع ہونے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک کا درمیانی وقت ہے۔ (مسلم)رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ مسلمان بندہ جو مانگتا ہے، اللہ اس کو ضرور عطا فرماتے ہیں۔ اور وہ گھڑی عصر کے بعد ہوتی ہے۔ (مسند احمد) مذکورہ ودیگر احادیث کی روشنی میں جمعہ کے دن قبولیت والی گھڑی کے متعلق علماء نے دو وقتوں کی تحدید کی ہے: (۱) دونوں خطبوں کا درمیانی وقت، جب امام منبر پر کچھ لمحات کے لئے بیٹھتا ہے۔ (۲) غروب آفتاب سے کچھ وقت قبل۔

نمازِ جمعہ کی فضیلت:رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: پانچوں نمازیں، جمعہ کی نماز پچھلے جمعہ تک اور رمضان کے روزے پچھلے رمضان تک درمیانی اوقات کے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جبکہ ان اعمال کو کرنے والا بڑے گناہوں سے بچے۔ (مسلم) یعنی چھوٹے گناہوں کی معافی ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر جمعہ کی نماز کے لئے آتا ہے، خوب دھیان سے خطبہ سنتا ہے اور خطبہ کے دوران خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک، اور مزید تین دن کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔ مسلم

جمعہ کی نماز کے لئے مسجد جلدی پہونچنا:رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح غسل کرتا ہے یعنی اہتمام کے ساتھ پھر پہلی فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نے اللہ کی خوشنودی کے لئے اونٹنی قربان کی۔ جو دوسری فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نے گائے قربان کی۔ جو تیسری فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نے مینڈھا قربان کیا ۔ جو چوتھی فرصت میں جاتا ہے گویا اس نے مرغی قربان کی۔جو پانچویں فرصت میں جاتا ہے گویا اس نے انڈے سے اللہ کی خوشنودی حاصل کی۔ پھر جب امام خطبہ کے لئے نکل آتا ہے تو فرشتے خطبہ میں شریک ہوکر خطبہ سننے لگتے ہیں۔ (بخاری ، مسلم) یہ فرصت(گھڑی) کس وقت سے شروع ہوتی ہے، علماء کی چند آراء ہیں۔ مگر خلاصہ کلام یہ ہے کہ حتی الامکان مسجد جلدی پہونچیں۔ اگر زیادہ جلدی نہ جاسکیں تو کم از کم خطبہ شروع ہونے سے کچھ وقت قبل ضرور مسجد پہونچ جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے ہر دروازے پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پہلے آنے والے کا نام پہلے، اس کے بعد آنے والے کا نام اس کے بعد لکھتے ہیں(اسی طرح آنے والوں کے نام ان کے آنے کی ترتیب سے لکھتے رہتے ہیں)۔ جب امام خطبہ دینے کے لئے آتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر (جن میں آنے والوں کے نام لکھے گئے ہیں) بند کردیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ مسلم

خطبۂ جمعہ:جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ نماز سے قبل دو خطبے دئے جائیں کیونکہ نبی اکرمﷺ نے ہمیشہ جمعہ کے دن دو خطبے دئے۔ دونوں خطبوں کے درمیان خطیب کا بیٹھنا بھی سنت ہے۔ مسلم

جمعہ کی نماز کا حکم:جمعہ کی نماز ہر اس مسلمان، صحت مند، عاقل، بالغ مردکے لئے ضروری ہے جو کسی شہر یا ایسے علاقے میں مقیم ہو جہاں روز مرہ کی ضروریات مہیّا ہوں۔ معلوم ہوا کہ عورتوں، بچوں، مسافر اور مریض کے لئے جمعہ کی نماز ضروری نہیں ہے۔ البتہ عورتیں، بچے، مسافر اور مریض اگر جمعہ کی نماز میں حاضر ہوجائیں تو نماز ادا ہوجائے گی۔ ورنہ ان حضرات کو جمعہ کی نماز کی جگہ ظہر کی نماز ادا کرنی ہوگی۔ اگر آپ صحراء میں ہیں جہاں کوئی نہیں، یا ہوائی جہاز میں سوار ہیں تو آپ ظہر کی نماز ادا فرمالیں۔ نماز جمعہ کی دو رکعات فرض ہیں، جس کے لئے جماعت کی نماز شرط ہے۔ جمعہ کی دونوں رکعات میں جہری قراء ت ضروری ہے۔ نماز جمعہ میں سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ، یا سورۃ الجمعہ اور سورۃ المنافقون کی تلاوت کرنا مسنون ہے۔

دعا سے بدل جاتی ہے تقدیر

دعا کا موضوع کوئ نیا اور اچہوتا موظوع نہیں ہے۔یہ موضوع اتنا ہی قدیم ہے جتنا کے خود انسان قدیم ہے۔حضرت آدم کو جو رب کریم نے جو دعا سیکھائوہ قرآن میں موجود ہے۔اسطرح پے در پے باقی انبیاءکی بھی دعا موجود ہے۔

حضرت محمد ھمارے پیارے نبی ہےاللہ تعالی نے نبی کریم کے ذریعے ہمیں یہ پیغام پہنچایا ہے کہ دنیا کے آخر تک کس طرح سے ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں .شریع اصطلاح میں دعا کا مفہوم مدد طلب کرنا ہے .دعا بذات خود عبادت کا مقام رکھتی ہے رب کریم نت قران پاک میں فرمایا ہے کے “اور تمھارے رب نے فرمایا ہے کہ تم مجھ سے دعا طلب کرتے رہو ,میں تمھاری دعاؤں کو قبول کرتا رہو گا .یقینا جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ہو کے جہنم میں پہنچ جائیں گے.”)

سورۃالمومن:۴۰)یعنی دعا ہمیں اس یقین کے ساتھ مانگنی چاہیے کہ قبول ہوگی اور ہمارا پروردگار ہمیں ۷۰ماؤں سے بر کر ہم سے محبت کرتا ہے ہم اپنے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہمارا رب ہماری ماضی حال مستقبل سے خوب واقف ہے بعض دعا ئیں قبول نہیں ہوتی اس مطلب یہ ہرگز نہیں کے وہ ہمیں پسند نہیں کرتا بللکہ وہ ہمیں ہمارے طلب سے زیادہ بہتر دینا چاہتا ہے.ایک مومن کے تمام طاقتوں وسائل کا حا صل توکل اللہ ہے قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے کے:آپ فرمادیجیے !مجھے اللہ کافی ہے ,توکل کرنے والے اس پر توکل کرتے ہیں (الزمر:۳۷) انسان اپنی نادانی کی وجہ سے جلد بازی کرنے لگتا ہے اور اپنا وجود کو سوچ سمجھ سے خالی کرنے لگتا ہے.لیکن اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے توبہ کا دوازہ کھول رکھا ہے اور جس سے بندہ توبہ کر کے اپنا نام نیک لوگوں میں شامل کرسکتا ہے.دعا کے یہ بھی ضروری ہے کے انسان تدبیر بھی کریں مثال کے طور پر اگر کوئی شخص بیمار ہے تو وہ علاج ومعالجہ اختیار نہیں کرتا تو یہ غلط ہے.صحت کے ممکنہ اسباب اختیار کر ے اور دعا کرے.انسان کو دعا ہمیشہ پورے دل کے ساتھ مانگنی چاہیے ایسا نا ہو زبان سے دعا مانگ رہے ہو اور دل کسی اور طرف متوجہ ہے.حدیث پاک ہے کے “غافل اور بے پروہ دل والے بندے کی دعا قبول نہیں فرماتا “یعنی ہمیں دعا اس یقین اور اطمینان کے ساتھ مانگنی چاہیے کہ قبول ہوگی اور اگر ہماری مانگی ہوئی دعائیں قبول نہیں ہوتی ہمیں دل بردشتہ شکستہ دل ہونے کے بجائے ہمیں اس بات پے غور کرنا چاہیے اللہ ہمیں ہم سے بہتر جانتا ہے اور ہمارے یقین کا تقاضا ہی ہیں ہونا چاہیے کے ہم اللہ کی رضا میں پورے دل سے راضی ہو .

بقول عالامہ اقبال: تقدیر کے پابند جماط ونباتات
مومن فقط احکام الہی کاہےپابندDua ki

چوہدری اسلم کےقتل سےمتعلق اہم ترین انکشاف

چوہدری اسلم کےقتل سےمتعلق اہم ترین انکشاف
کراچی:(ملت آن لائن) منگھوپیر سے گرفتار دہشتگرد نے بڑا انکشاف کردیا۔اس نے بتایاکہ اسٹریٹ کرائم سے حاصل ہونے والے رقم کالعدم تنظیموں کو بھیجا کرتا تھا۔ملزم چوہدری اسلم پر خودکش کرنے والے دہشتگرد کا بھائی ہے۔ چوہدری اسلم پرخودکش حملہ کرنیوالےدہشتگرد کا بھائی بھی دہشتگرد ہی نکلا۔ دھول جھونکنے کےلیے ملزم کام ہوزری کا کرتا تھا۔ ملزم شریف اللہ نےبنارس اورمیٹروول سائٹ میں تین افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔ ایک بڑا انکشاف یہ بھی کیا کہ اسٹریٹ کرائم سے حاصل ہونے والے رقم کالعدم تنظیم کو دیتا تھا۔
ملزم نے بتایا واردات کے دس سے پنتیس ہزار روپے ملتے تھے۔

سوناکشی کی نازیبا تصویر لیک

معروف بھارتی اداکارہ سوناکشی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی نازیبا تصویر لگائی ہے ۔ تصویر نے منظر عا م پر آتے ہی سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق معروف اداکارہ آجکل سنگاپور میں اپنی دوستوں کے ساتھ چھٹیاں گزار رہی ہیں۔سوناکشی بھارتی فلم انڈسٹری کا جانا مانا نام ہیں انہوں نے اپنی بہترین کارکردگی کے باعث فلم انڈسٹری میں اپنا نام پیدا کیا ہے۔اور اب ان کا شمار بھارت کی نامور اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔