کھیل کی دنیاسے خوشخبری : نیوزی لینڈ سے شکست کھانے کے باوجود پاکستان کو بڑی خوشخبری مل گئی

آکلینڈ (کھیل ) اس وقت نیوزی لینڈ 125 پوائنٹس کے ساتھ پہلے اور پاکستان 124 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ۔اگر پاکستان تیسرے میچ میں کامیاب رہا تو 126 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر آجائے گا۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی ٹونٹی سیریز کا آخری اور فیصلہ کن معرکہ کل ہو گا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز ایک ایک سے برابر ہے

، گرین شرٹس نے اہم میچ سے قبل خوب پریکٹس کی، میچ پاکستانی وقت کے مطابق دن گیارہ بجے شروع ہوگا۔گرین شرٹس نے سیریز میں کامیابی پر نظریں جما لیں، اہم میچ میں فتح کیلئے ماؤنٹ مونگانوئی میں سرفراز الیون نے بھرپور ٹریننگ کی، کھلاڑیوں نے بیٹنگ، فیلڈنگ اور فٹنس پر بہت محنت کی، تیسرے میچ کیلئے قومی ٹیم میں تبدیلی کا امکان نہیں۔ کیویز کی جانب سے زخمی کولِن مونرو اور گلین فلِپس ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ دونوں ٹیمیں پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح گیارہ بجے ان ایکشن ہوں گی۔ دوسرے ٹی ٹونٹی میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو جیت کےلئے 202رنز کا ہدف دے دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان تین ٹی ٹونٹی میچز پر مشتمل سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا،مہمان ٹیم کیلئے اننگز کا آغاز فخرزمان اور احمد شہزاد نے کیا، دونوں اوپنرز نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 94 رنز کی شراکت قائم کیجس کے بعد احمد شہزاد 44 رنز بناکر آﺅٹ ہوگئے ،فخرزمان نے نصف سنچری سکور کی اور 96 کے مجوعی سکور پر آﺅٹ ہوگئے۔کپتان سرفراز احمد اور بابر اعظم نے اوپنرز کے عمدہ آغاز کا بھرپور فائدہ اٹھاتے

ہوئے 48گیندوںپر 91رنز کی شراکت داری قائم کی ،سرفراز احمد24گیندوں پر 2چوکوں اور3چھکوں کی مدد سے 41رنز بنانے کے بعد ویہلر کی گیند پر آﺅٹ ہوئے ، آخری اوورز کابھر پور فائدہ اٹھانے کے لیے بھیجے گئے فہیم اشرف بھی کچھ نہ کرسکے اور بغیر کوئی رن بنائے پوویلین لوٹ گئے ، بابر اعظم نے اننگز کی آخری گیند پر چوکارسید کرکے اپنے ٹی ٹونٹی کیریئر کی تیسری نصف سنچری مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا سکور4وکٹوں کے نقصان پر 201رنز تک پہنچایا ، وہ 29گیندوں پر 5چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 50رنزکے ساتھ ناٹ آﺅٹ رہے۔پاکستانی ٹیم کو نیوزی لینڈ کے ٹور میں ابھی تک مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہے، ون ڈے سیریز میں کلین سویپ کے بعد ویلنگٹن میں کھیلے جانے والے پہلے ٹی ٹونٹی میں بھی قومی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور سیریز میں واپسی کےلئے پاکستان کو آج کا میچ جیتنا ضروری ہے۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ پاکستان کو 5 ایک روزہ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کرچکا ہے جب کہ ٹی ٹونٹی سیریز میں بھی نیوزی لینڈ کو 0-1 کی برتری حاصل ہے۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ پاکستان کو 5 ایک روزہ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کرچکا ہے جب کہ ٹی ٹونٹی سیریز میں بھی نیوزی لینڈ کو 0-1 کی برتری حاصل ہے۔

راولپنڈی میں بچی سےمبینہ زیادتی کی کوشش،ملزم کو گرفتار کرکے تھانا بیرونی میں مقدمہ درج کر لیا گیا

راولپنڈی میں بچی سےمبینہ زیادتی کی کوشش کرنے والاملزم گرفتار، تھانا بیرونی میں مقدمہ درج کر لیا گیا.تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں ڈھوک لکھن کے علاقے میں بچی سےمبینہ زیادتی کی کوشش کی گئی،.بچی کے شور مچانے پر گھر والے موقع پر پہنچ گئے جس پر دکاندار فرار ہو گیا.والد

نے تھانہ بیرونی میں ملزم کے خلاف درخواست دے دی .درخواست کے مطابق دکاندارنےبچی سےزیادتی کی کوشش کی،گھروالوں کےپہنچنےپردکاندار دکان سے فرار ہوگیا.پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے تھانا بیرونی میں مقدمہ درج کر لیا .

راؤ انوار ایک درندہ ہے ۔۔۔یہ کس کام کے لیے لوگوں کو قتل کرتا ہے ؟ اسپیکر اسمبلی نے تشویشناک انکشافات کرتے ہوئے سرعام پھانسی کا مطالبہ کر ڈالا

کراچی(یونیلاد پاکستان) راؤ انوار درندہ ہے جو پیسوں کے لیے لوگوں کو اٹھاتا ہے اسے سرعام پھانسی دی جائے۔ اسپیکر خیبر پختون خوا اسمبلی اسد قیصر کا بیان ۔نجی ٹی وی کے مطابق قبائلی نوجوان نسیم اللہ عرف نقیب اللہ محسود کے خون کا حساب مانگنے کے لیے قبائلی عمائدین کا کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں تعزیتی کیمپ کئی روز سے جاری ہے

جس سے خطاب کرتے ہوئےخیبر پختون خوا اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ نقیب اللہ، انتظار اور مقصود کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتا ہوں، کے پی کے اسمبلی نقیب اللہ کے والد کے ساتھ کھڑی ہے۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ راؤ انوار درندہ ہے جو پیسے لینے کے لیے لوگوں کو اٹھاتا ہے، اس کے مقابلوں کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور راؤ انوار کو سرعام پھانسی دی جائے۔واضح رہے کہ راؤ انوار کے مبینہ پولیس مقابلے پر بننے والی تحقیقات کمیٹی نے نقیب اللہ محسود کو بے گناہ اور پولیس مقابلےکو جعلی قراردیا ہے جب کہ راؤ انوار تحقیقاتی کمیٹی سامنے پیش نہیں ہورہے اور روپوش ہوچکے ہیں۔دوسری جانب راؤ انوار کے ملیر میں تین فارم ہاؤ سز میں ٹارچر سیلز کا انکشاف، بے گناہ شہریوں کو اٹھاکر لایا جاتا اور اہل خانہ سے لاکھوں روپے تاوان وصول کیا جاتا ، تاوان ادا نہ کرنے والوں کو جعلی مقابلوں میں دہشتگرد قرار دیکر ہلاک کر دیا جاتا، اس کام کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دے رکھی تھی،نقیب اللہ محسود اور اس کے دوستوں کو بھی تاوان کی بھاری رقم حاصل کرنےکیلئے ہوٹل سے اٹھایا، دوست بھاری تاوان لیکر چھوڑ دئیے جبکہ نقیب اللہ محسود کو رقم

نہ ملنے پر جعلی مقابلے میں مروا دیا گیا، قومی اخبار کی رپورٹ میں ہولناک انکشافات سامنے آگئے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے معتبر قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ راؤ انوار کراچی شہر میں اغوا برائے تاوان کا ایک بہت بڑا ریکٹ چلا رہا تھا اور اس نے ملیر کے علاقے میں تین فارم ہائوسز میں ٹارچر سیلز قائم کر رکھے تھے جبکہ بیگناہ شہریوں کو شہر کےمختلف علاقوں سے اٹھا کر ان ٹارچر سیلوں میں لایا جاتا اور ان کے اہل خانہ سے لاکھوں روپے تاوان وصول کیا جاتا۔جن افراد کے اہل خانہ تاوان ادا نہ کر سکتے ان کو جعلی پولیس مقابلوں میں دہشتگرد قرار دیکر ہلاک کر دیا جاتا ۔ رائو انوار نے اس مذموم دھندے کیلئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے رکھی تھی۔ راؤ انوار کے اغوا کار ٹیم کے اہلکار شہرکے مختلف علاقوں سے ایسے شہریوں کو اٹھاتے تھے، جن کے پاس کم سے کم 10 لاکھ روپے نکل سکیں، اغوا کار ٹیم کے مخبر ملیر زون میں دوسرے شہروں سے آنے والے شہریوں کا مکمل ڈیٹا جمع کرتے تھے اور ان سے دوستیاں کرنے کے بعد ان کا بینک بیلنس معلوم کرتے تھے،جس کے بعد وہ اغوا کار ٹیم کے اہلکاروں کو شہری

کی مکمل معلومات اور لوکیشن بتاتے تھے، جس کے بعد راؤ انوار کی بنائی گئی اغوا کار ٹیم شہری کو اٹھا کر ٹارچر سیلمیں لے آتی تھی اور دو سے تین دن تشدد کرنے کے بعد اس کے بارے میں تمام معلومات جمع کرکے اس ے اہلخانہ سے مخبروں کے ذریعے رابطہ کرواتی تھی۔اور تاوان کی رقم کے حوالے سے معاملات طے کئے جاتے تھے۔ رقم ملنے کے بعد ان شہریوں کو سپر ہائی وے پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔اخباری ذرائع کے مطابق راؤ انوار کی اغوا کار ٹیم نے تین جنوری کو نقیب کو اس کے دو دوستوںقاسم اور علی کے ساتھ ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع ہوٹل سے اٹھایا تھا، بعد میں نقیب کے دو دوستوں کو بھاری تاوان کی رقم لے کر رہا کردیا تھا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ راؤ انوار کی ٹیم کے ایک مخبر نے نقیب کے بارے میں بتایا تھا کہ اس کے پاس کم سے کم 50 لاکھ روپے سے زائد رقم ہےاور اس نے الآصف سکوائر پر 2 دکانیں بھی کرائی پر لی ہیں، جن کا ایڈوانس ایک لاکھ روپے سے زائد ادا کیا ہے۔اس کے علاوہ اس نے اپنے گاؤں سے بھی رقم منگوائی ہے۔خیال رہے کہ تاوان ادا نہ کرنے والوں کو جعلی مقابلوں میں دہشتگرد قرار دیکر ہلاک کر دیا جاتا، اس کام کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دے رکھی تھی،نقیب اللہ محسود اور اس کے دوستوں کو بھی تاوان کی بھاری رقم حاصل کرنےکیلئے ہوٹل سے اٹھایا، دوست بھاری تاوان لیکر چھوڑ دئیے جبکہ نقیب اللہ محسود کو رقم نہ ملنے پر جعلی مقابلے میں مروا دیا گیا،

’’پنجاب کی طرح خیبرپختونخواہ پولیس بھی ہڈ حرام نکلی ‘‘ مردان کی عاصمہ کیساتھ قتل سے قبل زیادتی چھپانےکی کوشش، پنجاب فرانزک لیب نے بھانڈا پھوڑ ڈالا، چیف جسٹس کا از خود نوٹس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مردان کی 4سالہ عاصمہ قتل کیس پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے زیادتی کی تصدیق کر دی۔ تفصیلات کے مطابق مردان کی 4سالہ عاصمہ قتل کیس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سوموٹو ایکشن لے لیا ہے جبکہ دوسری جانب پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے 4سالہ عاصمہ کے ساتھ قتل سے قبل زیادتی کی تصدیق کر دی ہے۔

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ڈی جی ڈاکٹر اشرف طاہر کے مطابق عاصمہ کے ساتھ قتل سے قبل زیادتی ثابت ہو گئی ہے۔ عاصمہ کے جسم سے حاصل کردہ نمونوں میں اس سےزیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ مردان میں چند دن قبل جب قصور کی 7سالہ زینب کے قتل کا واقعہ میڈیا کی زینب بنا ہوا تھا تب ایک 4سالہ بچی عاصمہ کی لاش گھر کے قریب کھیتوں سے ملی تھی جس پر جب پوسٹمارٹم کرایا گیا تو اس میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی ثابت ہو ئی تھی تاہم مردان کے ڈی پی او نے بچی کے ساتھ زیادتی کی تردید کی جس پر مقامی ضلع ناظم نے میڈیا بریفنگ میں پولیس پر تنقید کرتے ہوئے زیادتی کی تصدیق کی تھی جبکہ اب پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے بھی عاصمہ کے جسم سے حاصل کردہ نمونوں کو چیک کرنے کے بعد اس کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کر دی ہےجبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک بھی معاملہ میڈیا پر آنے کے بعد عاصمہ کے اہل خانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کیلئے اس کے گھر گئے تھے جہاں انہوں نے عاصمہ کے قاتلوں کی گرفتاری اور عبرتناک سزا دلوانے کی لواحقین کو یقین دہانی کرائی تھی مگر خیبرپختونخواہ پولیس ابھی تک عاصمہ قتل کیس پر ابتدائی تحقیقات بھی مکمل نہیں کر سکی جس سے اس کی معاملے میں سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔زینب کے قاتل عمران کی

گرفتاری کی تصدیق کیلئےکی جانے والے پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے خیبرپختونخواہ حکومت کو عاصمہ قتل کیس کے حوالے سے ہر طرح کے تعاون کی پیش کش کی تھی جس کے بعد خیبرپختونخواہ حکومت نے پنجاب حکومت سے رابطہ کرتے ہوئے فرانزک مدد حاصل کی تھی اور عاصمہ کے جسم سے حاصل کردہ نمونے پنجاب فرانزک لیب کو بھجوائے تھے۔

نواز شریف اور مریم نواز کی ہری پور جلسہ میں آمد عمران خان اور آصف زرداری سوچ بھی نہیں سکتے لیگی کارکنوں نے ایسا کام کر ڈالا کہ نیا ریکارڈ بن گیا

ہری پور(آئی این پی ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کے ہری پور پہنچنے پر پر تباک استقبال کیا گیا ، نواز شریف کی آمد پر 8 من پھولوں کی پتیاں ہیلی کاپٹر سے نچھاور کی

گئیں ۔ ہفتہ کو سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز ہری پور پہنچے تو و ہاں پر لیگی کارکنوں نے انکا پر تباک استقبال کیا اور ان کی آمد پر 8 من پھولوں کی پتیاں ہیلی کاپٹر سے نچھاور کی گئیں ۔

ننھی زینب کا قتل، سپارہ پڑھنے ساتھ جانیوالا بچہ بول پڑا،اہم انکشافات کر دئیے

ننھی زینب کے قتل کی تحقیقات کا باقاعدہ سنجیدہ انداز میں آغاز ہو چکا ہے اور پولیس ملزم کو تلاش کرنے کیلئے سرگرداں ہو چکی ہے۔ نجی ٹی وی چینل سے بات کرتےہوئے مقتولہ زینب کے ساتھ روزانہ قرآن پاک کی تعلیم کیلئے جانے والے بچے نے انکشافات کئے ہیں۔ 7سالہ عثمان نے بتایا کہ میں اور زینب دونوں روزانہ سپارہ پڑھنے ساتھ جاتے تھے جس دن زینب اغوا ہوئی میں زینب کے ساتھ اس کے کمرے میں ہی موجود تھا۔ زینب مجھ سے پہلے ہی وضو کر کے

سپارہ پڑھنے کیلئے گھر سے نکل گئی، زینب کو سپارہ پڑھنےکیلئے جاتا دیکھ کر میں بھی پیچھے پیچھے اس کے گھر سے نکل گیا جب میں سپارہ پڑھانے والی خالہ کے گھر پہنچا تو وہاں زینب کو موجود نہ پایا ۔ سپارہ پڑھانے والی خالہ نے بھی مجھ سے زینب سے متعلق سوال کیا کہ آج زینب کیو ں نہیں آئی تو میں نے بتا یا کہ وہ تو مجھ سے پہلے ہی سپارہ پڑھنے کے لیے آگئی تھی۔ زینب کے چچا کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ہمیں پتہ چلا کہ زینب سپارہ پڑھنے نہیں پہنچی اور لاپتہ ہے تو ہم اس کو ڈھونڈنے میں سرگرداں ہو گئے مگر پولیس نے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ ہم زینب کو تلاش نہیں کر سکے۔

زینب کے اندوہناک قتل پر اہل پاکستان ہی نہیں بلکہ نبی کریمؐ کے شہر مدینہ منورہ کے لوگ بھی غمزدہ، عمرہ کے دوران جب والدین گڑگڑا کر بچی کیلئے دعائیں مانگ رہے تھے تب کیا ہوا، جگر کو چھلنی کر دینے والا واقعہ

)قصور کے اندوہناک واقعہ نے جہاں پوری قوم کو ہلا کررکھ دیا وہیں ننھی شہیدہ کے والد کی گزشتہ رات میڈیا سے گفتگو نے اہل پاکستان کیا اہل اسلام تک کی آنکھیں نم کردیں۔ مقتولہ زینب کے والد محمد امین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب زینب پیدا ہوئی تو اہل بیتؓ کی محبت میں بچی کا نام انہوں نے زینب رکھا تھا۔ عمرے کی ادائیگی کیلئے جب میں سعودی عرب میں تھا تو وہاں مدینہ منورہ میں زینب کی گمشدگی کیا

طلاع ملی ، جب ہم دونوں میاں بیوی زینب کی سلامتی اور بحفاظتبازیابی کیلئے گڑگڑا کر دعائیں مانگ رہے تھے تو وہاں موجود لوگ حیران تھے کہ نہ جانے ان کو کیا پریشانی ہے؟اور جب ہم نے ننھی زینب کی تصویر دکھائی تو ان کی بھی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ یہ تو اتنی پیاری بچی ہے کون ظالم اسے اغواکر کے لے گیا ہے۔ محمد امین کا کہنا تھا کہ میری دعا ہے کہ جو اذیت ہم برداشت کر رہے ہیں اور جو سانحہ ہمارے ساتھ گزرا ہے ایسا کسی کے ساتھ نہ ہو۔

ننھی زینب کو درندگی کی بھینٹ چڑھانے والا کون،آخری مرتبہ کس کے ساتھ گھر سے گئی، والد کے چونکا دینےو الے انکشافات

قصور کی بے قصور ننھی شہیدہ زینب جسے زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا کی شہادت کے اندوہناک واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پورے ملک میں اس وقت پاکستانی عوام غم و غصے کی کیفیت میں مبتلا ہیںاور قاتل کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں،

سوشل میڈیا پر زینب کے قتل پر تو ہنگامہ برپا ہے اور صارفین زینب کے قاتل کو سر عام پھانسی دئیےجانے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی دوران زینب کے والدین جو عمرے کی ادائیگی کے بعد وطن واپس پہنچ چکے ہیں ہراسو یاس کی تصویر بنے نظر آتے ہیں اور ان کا بھی یہی ایک مطالبہ ہے کہ ان کی معصوم بیٹی کے قاتل کو فی الفور گرفتار کر کے سزا دی جائے۔ زینب کے قتل کی تحقیقات اب سنجیدہ اور ماہر تفتیش کاروں کو سونپی گئی ہے اور اسی اثنا میں زینب کے والد نے بھی اہم انکشافات کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ زینب جس شخص کے ساتھ جاتی نظر آتی ہے وہ اس سے مانوس ہے ، زینب کے والد کا کہنا ہے کہ مجرم آس پاس کا ہی کوئی شخص ہے کیونکہ زینب اور ممکنہ مجرم کی سی سی ٹی وی فوٹیج ظاہر کرتی ہے کہ بچی اس شخص سے مانوس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مجرم بچی سے ناواقف ہوتا تو اسے زیادتی کے بعد چھوڑ دیتا قتل نہ کرتا۔زینب آخری بار اپنے کزن کے ساتھ گھر سے گئی تھی جو خود ابھی بچہ ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ یہ قصور میں ہونے والا پہلا واقعہ نہیں یہاں پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔زینب کے والد محمد امین جو انتہائی دکھ کی کیفیت میں تھے کا کہنا ہے کہ قصور میں ہونے والے واقعات کو دیکھتے ہوئے وہ خود زینب کو لینے اور چھوڑنے سکول جاتےتھے جس روز یہ واقعہ ہوا وہ عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب میں تھے۔چھوڑنے سکول جاتےتھے جس روز یہ واقعہ ہوا وہ عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب میں تھے۔

دہشت گرد نے کیپٹن کو انڈین ہیڈ کوارٹر رابطہ کرنے کو کہا انہوں نے انتہائی شرافت سے بظاہر حکم کی تعمیل کرتے ہوۓ اپنے ہی فیصل ائیر بیس کراچی کو ملاتے ہوۓ ساتھ ایک مخصوص نمبر کوڈ بولا جو محض نمبر ہی تھے لیکن اس مخصوص کوڈ کا مطلب تھا جہاز ہائی جیک ہو چکا ہے ، کپیٹن صاحب نے پوچھا کیا یہ دہلی ایئر پورٹ ہے ؟

25 مئی 1998 بروز سوموار

پی آئی اے فوکر27
(فلائیٹ نمبر PK-554) جس نے تربت ائیرپورٹ سے اڑان بھری تھی، اور اب گوادر ایئر پورٹ سے کراچی روانہ ہونے کو تیار کھڑا تھا تھا ، روانگی سے قبل جہاز میں معمول کے مطابق اعلان کیا گیا خواتین و حضرات اپنے حفاظتی بند باندھ لیجئیے ، ہم بہت جلد اپنے سفر کو روانہ ہونے والے ہیں ، اس چھوٹی سی ایئر کرافٹ میں 33 مسافر سوار تھے اور عملہ کے 5 افراد تھے

رات کے 8 بجے جہاز اپنی منزل کراچی کیلئے آسمان کی جانب بلند ہوا اور اسے رات 9 بجے کراچی پہنچنا تھا

پرواز کے 20 منٹ کے بعد ایک درازقد جوان اٹھا اور کاک پٹ کی جانب بڑھا ، ائیر ہوسٹس خالده آفریدی نے سامنے آتے ہوۓ گزارش کی سر آپ تشریف رکھیں کاک پٹ میں آپکو جانے کی اجازت نہیں وہ شخص انھیں دھکا دے کر ہٹاتے ہوۓ پائلٹ تک پہنچ گیا اور پسٹل نکال کر پائلٹ عذیر خان کی گردن پر رکھتے ہوۓ خبردار کیا کے وہ اسکے حکم کا پابند ہے ،

اس لمحے اس دہشت گرد کے دو ساتھی بھی اٹھ کھڑے ہوۓ اور پسٹل مسافروں پر تان لئیے ،ان میں سے ایک نے کچھ پیکٹ جسم کے ساتھ باندھ رکھے تھے جو کے پھٹنے والا خطرناک مٹیریل تھا

.خوف اور ھراس کی فضا جہاز میں سرایت کر گئی ، دہشت گرد نے کیپٹن عذیر خان کو حکم دیا کے یہ جہاز کراچی نہیں انڈیا دہلی ائیرپورٹ جاۓ گا .اس نے کیپٹین کو گالیاں دیں اور انھیں گن پوائنٹ پر دھمکایا

کیپٹن عذیر خان نے جہاز میں مسافروں کو آگاہ کیا کے معزز خواتین و حضرات جہاز ہائی جیک ہو چکا ہے اور اب یہ انڈیا جاۓ گا دہشت گرد نے کیپٹن کو انڈیا ایئر بیس رابطہ کر کے اترنے کی اجازت مانگنے کو کہا ، کیپٹن نے ظاہری طور اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی جہاز کی سمت بھی بدل دی ، یہ وہ لمحہ تھا جب کنٹرول ٹاور میں کھلبلی مچ گئی کیوں کے راڈار جہاز کی سمت بدلنے کی نشاندھی کر رہا تھا اور تمام سگنلز ٹریس کر لیے گئے تھے

پاک ائیر فورس کے 2 فائٹر جیٹ ایف 7 MP فیصل ائیر بیس کراچی سے اسی وقت فضا میں بلند ہوۓ اور انکا ہدف پی آئی اے فوکر کو گھیرنا تھا تا که جھاز کسی بھی صورت میں پاکستان سے باہر نہ جا سکے

دہشت گرد نے کیپٹن کو انڈین ہیڈ کوارٹر رابطہ کرنے کو کہا انہوں نے انتہائی شرافت سے بظاہر حکم کی تعمیل کرتے ہوۓ اپنے ہی فیصل ائیر بیس کراچی کو ملاتے ہوۓ ساتھ ایک مخصوص نمبر کوڈ بولا جو محض نمبر ہی تھے لیکن اس مخصوص کوڈ کا مطلب تھا جہاز ہائی جیک ہو چکا ہے ، کپیٹن صاحب نے پوچھا کیا یہ دہلی ایئر پورٹ ہے ؟ لیکن اسکے ساتھ ہی انہوں نے انتہائی ہوشیاری کے ساتھ رابطہ منقطع کر دیا یہ ظاہر کرتے ہوۓ کے دوسری جانب سے کال کو ڈراپ کیا گیا ہے

یہ سب سنتے ہی ایئر پورٹ ہیڈ کوارٹر میں اعلی حکام کی ارجنٹ میٹنگ میں ایکشن پلان بنایا گیا ، یہ معلوم ہو چکا تھا کے دہشت گرد جہاز انڈیا لے کر جانا چاہتے ہیں لہذا ایکشن پلان میں فیصلہ یہ ہوا کے فوکر کو حیدرآباد کے ائیرپورٹ پر اتارا جاۓ گا ، اسکے لیے ائیرپورٹ پولیس فورس کے اعلی تربیت یافتہ اور ضرار کمانڈو فورس بٹالین سے دستہ منگوا لیا گیا ، پاک آرمی رینجر کا دستہ بھی ہائی الرٹ تھا
: اصل ڈرامہ تو ابھی شروع ہونے کو تھا

کیپٹن اپنے سسٹم سے ملنے والے خاموش سگنلز سے جان چکے تھے کے وہ دو عدد فائٹر جیٹ کے گھیرے میں ہیں جنکا علم صرف انہی کو تھا اب انہوں نے دہشت گردوں کے لیے بہانہ بناتے ہوۓ کہا کے ہمارے پاس کافی ایندھن نہیں ہے جو ہمیں دہلی لے جاسکے ہمیں قریبی ائیر پورٹ سے ایندھن اور خوراک لینا پڑے گی ہائی جیکرز کا تعلق بوچستان سٹوڈنٹس تنظیم سے تھا وہ ہر صورت جہاز نیو دہلی لے جانا چاہتے تھے انکے پاس نقشہ بھی تھا اور وہ نقشہ دیکھ کر آپس میں باتیں بھی کر رہے تھے وہ بار بار نقشہ دیکھتے ہوۓ بھوج ائیرپورٹ کو نقشے میں دیکھ کر ذکر کر رہے تھے ، انکی باتیں سن کر کیپٹن نے کہا کے انڈیا کا بھوج ائیر پورٹ قریب پڑتا ہے وہاں تک جہاز جا سکتا ہے . لیکن اسکے لیے انڈین ہیڈ کوارٹر سے اجازت لینا ہوگی

اب اگلا مرحلہ تھا بھوج ائیرپورٹ رابطہ کر کے اترنے کی اجازت لی جاۓ ، کیپٹن عذیر خان جانتے تھے قریبی ائرپورٹ سندھ کا حیدرآباد ائیر پورٹ ہی تھا ، انہوں نے وہاں رابطہ کرتے ہوۓ یہ پوچھا کیا یہ بھوج ائیر پورٹ ہے کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں ؟
یہ پاکستانی حکام کو انکا سیکرٹ سگنل تھا کے دہشت گرد بھوج ائیر پورٹ اترنا چاہتے ہیں جواب میں ٹھیٹھ ہندی میں ایک تربیت یافتہ ائیر پورٹ آفیسر نے کال ہینڈل کرنا شروع کی یہاں سے دہشت گردوں نے ان سے مذاکرات کرنا شروع کیے اور کہا کے وہ بلوچستان سٹوڈینٹس آرگنائزشن(BSO) سے تعلق رکھتے ہیں یہاں 33 مسافر ہیں 5 عملہ کے لوگ ہیں وہ حکومت پاکستان کے انڈیا کے مقابلہ میں نیوکلئیر تجربے کرنے کے خلاف ہیں اور اس ہائی جیک سے وہ پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کے وہ یہ تجربے نہ کریں ، اسکے ساتھ ہی انہوں نے جئے ہند کے نعرے لگاۓ اور کہا کے وہ انڈیا کی مدد کریں گے اور پاکستان کا یہ جہاز انڈیا لے کر داخل ہونا چاہتے ہیں ، انھیں اجازت دی جاۓ انھیں بھوج ائیر بیس پر اترنے دیں کے جہاز کو ایندھن اور مسافروں کو خوراک پانی چاہئیے

انتہائی ہوشیاری سے آفیسر نے ٹھیٹھ ہندی زبان بولتے ہوۓ دہشت گردوں کو تاثر دیا کے وہ انڈیا سے بول ریا ہے ساتھ میں اس نے ان سے انکی شناخت کے بارے میں پوچھا کے وہ کون ہیں ہم آپ پر اعتبار کیوں کریں .نتیجے میں دہشت گردوں نے اپنا نام اور رہائشی علاقوں کے بارے میں بتایا کے وہ بلوچستان سٹوڈنٹ فیڈریشن سے تعلق رکھتے ہیں ….سیکورٹی افسران نے منٹوں میں انکا ڈیٹا حاصل کر لیا
کچھ تگ و دو کے بعد انھیں بتایا گیا کے پردھان منتری سے بات کرنے کے بعد انکی ڈیمانڈ منظور کرتے ہوۓ بھوج ائرپورٹ اترنے کی اجازت دے دی گئی ہے خوشی سے دہشت گردوں نے جئے ہند اور جے ماتا کی جے کے نعرے لگاۓ جبکے دوسری جانب ہیڈ کواٹر سے بھی جے ہند کے نعرے لگائے گئے کیپٹن کو اپنے افسران کی جانب سے اس سارے ڈرامے کا اور جعلی نعروں کا علم تھا لیکن وہ بالکل خاموشی سے بیٹھے رہے

اس دوران ہنگامی طور پر حیدرآباد ائیر پورٹ سے پائلٹس کو کال کر کے تمام جہاز ائر پورٹ سے ہٹانے کا حکم دیا گیا ، شکار کے لیے جال تیار کیا جا رہا تھا ائرپورٹ پولیس فورس نے ائیر بیس کی جانب جانے والے تمام راستے بند کر دیۓ کمانڈوز اور رینجرز مستعد کھڑے تھے ، افسران کی نگاہیں سکرین پر تھیں ، اب جہاز نے ٹائم پاس کرنا تھا اس لیے کے وہ پہلے ہی حیدرآباد کی حدود میں ہی تھا کیپٹن کمال ہوشیاری اور ذہانت سے جہاز مزید بلندی پر لے گئے اور وہیں ایک ہی زون میں گھماتے رہے اور ظاہر یہ کرتے رہے کے وہ انڈیا جا رہے ہیں جبکے 2 ایف 7 MP کے فائٹر جیٹ انکے ارد گرد تھے ، فائٹر جیٹ انکو مانیٹر کر رہے تھے جنکا کیپٹن کو بخوبی علم تھا

رات کے 8.20 پر اس وقت حیدرآباد ائیر پورٹ پر تمام لائٹس بند کر دی گئیں ساتھ میں سارے شہر کی بجلی بھی بند کر دی گئی ….تاکے دہشت گرد رات کے اندھیرے میں علاقہ نہ پہچان سکیں ، ائیر پورٹ بیس سے پاک سرزمین کا ہلالی پرچم اتار کر انڈیا کا پرچم لہرا دیا گیا ، ہیڈ کوارٹر سے ہدایات ہندی میں ہی دی جارہی تھیں ، اور پھر کیپٹن صاحب جہاز کو لے راڈار سگنلز فالو کرتے ہوۓ جعلی بھوج ائرپورٹ کو لینڈ کرنے والے تھے ، سارا ائرپورٹ خالی تھا وہاں دہشت گردوں نے انڈیا کا پرچم لہراتے دیکھا تو جئے ہند کے نعرے بلند کئے ،ساتھ میں کیپٹن عذیر خان کو گالیاں دیں ، تمام کمانڈوز ، ضرار فورس بٹالین کے جوان اور آرمی رینجرز گھات لگاۓ جہاز کے اترنے کا انتظار کر رہے تھے جہاز اترتے ہی پولیس فورس اور رینجرز نے گھپ اندھیرے میں گاڑیاں جہاز کے آگے کھڑی کر دیں کے وہ ٹیک آف نہ کرسکے ،

پھر وہاں کے SSG کمانڈو عملہ کے روپ میں 3 اہلکار بات چیت کے بہانے جہاز میں بغیر ہتھیار کے جائزہ لینے کے لیے داخل ہوۓ ، وہ SSG کے تربیت یافتہ خطرناک کمانڈوز تھے ، جنہوں نے رضاکارانہ طور پر جہاز کے اندر بغیر ہتھیاروں کے داخل ہونے کے لیے خود کو پیش کیا ..انہوں نے انڈین فورس کی وردی میں ہندو بنیے کے لہجے میں ٹھیٹھ ہندی لہجے میں دہشت گردوں سے بات چیت کرنا شروع کی .. گویا یہ انڈیا تھا اور یہ بھوج ائر پورٹ ہے ، دہشت گرد ایندھن اور خوراک چاہتے تھے لیکن بات چیت طویل ہوتی جارہی تھی ، تینوں اہلکاروں کا ہدف تھا کے وہ جہاز کے اندر کی صورتحال کا جائزہ لیں خاص طور پر وہ شخص جس نے جسم پر پیکٹ باندھ رکھے تھے وہ انکے ہتھیاروں کو بھی دیکھنا چاہتے تھے کے ایکشن کی صورت میں جہاز میں موجود خواتین اور بچوں کووہ کس طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں ……

فلائیٹ انجئیر سجاد چودھری نے دہشت گردوں کو قائل کیا کے آپ پہلے ہی انڈیا میں ہو اس لیے عورتوں بچوں کو یہیں اتار کر آپ دہلی چلے جاؤ ، رات کے 11 بجے جہاز سے آخر عورتیں اور بچے اترنا شروع ہوے ان مسافروں کے جہاز سے اترنے کی دیر تھی کے جہاز کے چاروں طرف اندھیرے میں خاموشی سے رینگتے ہوۓ کمانڈوز ایک ہی ہلے میں تیزی کے ساتھ پہلے اور دوسرے دروازے سے اللہ اکبر کی چنگاڑ کے ساتھ دہشت گردوں پر حملہ آور ہوۓ اللہ اکبر کے نعرے نے دہشت گردوں کو حیرت زدہ کر دیا کے یہ انڈیا میں اللہ اکبر کا نعرہ کیسے بلند ہوا ، بد حواسی میں ایک دہشت گرد نے فائر کیا جو ضایع گیا ریکارڈ کے مطابق 2 منٹ کے اندر تینوں دہشت گردوں کو قابو کر کے باندھ دیا گیا ، وہ حیران پریشان تھے یہ بھوج ائیرپورٹ پراللہ اکبر والے کہاں سے آگئے ، چیف کمانڈو نے آگے بڑھ کر زمین پر بندھے ہوۓ دہشت گردوں کی طرف جھکتے ہوۓ انکی حیرت زدہ آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتے ہوۓ کہا… ‘ویلکم ٹو پاکستان

جھاز کےکپیٹن عذیر خان بڑے ہی سکون سے بیٹھے ساری صورتحال خاموشی سے دیکھ رہے تھے پھر وہ بڑے آرام سے اپنا بیگ اٹھاتے ہوۓ دہشت گردوں کے قریب سے مسکراتے ہوۓ جہاز سے اتر گئے

اس سارے ڈرامہ کے ہیرو کیپٹن کو اعزازی میڈل دئیے گئے اس لیے کے انہوں نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا ، درست کوڈ بولا ، خود ہی جہاز کو بلندی پر لے گئے اور ایندھن نہ ہونے کا بہانہ بھی انہوں نے یونہی بنایا تھا . گالیوں کے جواب میں انہوں نے صبر سے کام لیا ..اس مشن میں حصہ لینے والے پولیس فورس آرمی افسران ، کمانڈو اور پولیس فورس کے سربراہان کو بھی اعزاز سے نوازا گیا

17 سال بعد 17 مئی 2015 میں تینوں دہشت گردوں (جنکا تعلق BSO سے تھا) کو حیدرآباد جیل کو سزاۓ موت دے دی گئی

کپیٹن عذیر خان کی ذہانت عقلمندی اور ہوشمندی نے پاکستان کوکسی عظیم نقصان سے بچا لیا ، وہ بعد میں ٹرینی پائلٹس کو لیکچر بھی دیتے رہے اور جب اس واقعہ کے بعد صحافیوں نےان سے سوال کیے تو وہ بولے ‘ اگر دشمن یہ سمجھتے ہیں کے ہم موت سے ڈرتے ہیں تو سن لیں مسلمان موت سے نہیں ڈرتا اور شہادت تو مسلمان کے لیے انعام ہے

پاکستان کے دشمنوں کو خبر ہو کے جس وطن کے بیٹے اتنے دلیر اور جانثار ہوں اس سرزمین کو کوئی شکست نہیں دے سکتا پاکستان ڈیفنس فورسز اس ملک کے چپے چپے کی حفاظت اللہ کی مدد سے کریں گے

*پاکستان ان شاءlللہ* ہمیشہ قائم و دائم رہے گا

*سلام پاکستان*

*پاکستان زنده باد* Continue reading “دہشت گرد نے کیپٹن کو انڈین ہیڈ کوارٹر رابطہ کرنے کو کہا انہوں نے انتہائی شرافت سے بظاہر حکم کی تعمیل کرتے ہوۓ اپنے ہی فیصل ائیر بیس کراچی کو ملاتے ہوۓ ساتھ ایک مخصوص نمبر کوڈ بولا جو محض نمبر ہی تھے لیکن اس مخصوص کوڈ کا مطلب تھا جہاز ہائی جیک ہو چکا ہے ، کپیٹن صاحب نے پوچھا کیا یہ دہلی ایئر پورٹ ہے ؟”

چکن کھانے کے شوقین افراد یہ تحریر ضرور پڑھ لیں

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ) سردیوں کے آتے ہی ملک بھر میں برائلر گوشت کی قیمتوں میں اضافے کا رجحانی جاری ہے اور دو روز کے دوران برائلر گوشت کی قیمت میں 16روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے ۔ جمعرات کے روز برائلر گوشت کی قیمت 5روپے اضافے سے 257روپے سے بڑھ کر 262روپے فی کلو ہو گئی تھی جبکہ گزشتہ روز مزید 11 روپے فی کلو اضافے کے بعد برائلر گوشت کی قیمت 273روپے فی کلو ہو گئی

تاہم ابھی تک چکن کے گوشت کی قیمت میں 88 روپے فی کلو تک اضافہ ہو ا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔اب مرغی بھی غریب اور متوسط درجے کے افراد کے ہاتھوں سے پھسل رہی ہے ،سلسلہ جاری رہا تو مہینے کے اختتام تک 100روپے تک پہنچ سکتی ہے ۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ کم آمدنی والوں کو مرغی کا گوشت کھانا بھی اب خواب لگنے لگا ہے ۔ ‎