احتساب عدالت میں نواز شریف کی بڑی چوری پکڑی گئی،کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف

احتساب عدالت میں نواز شریف کی بڑی چوری پکڑی گئی،کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف

اسلام آباد(ویب ڈیسک) احتساب عدالت میں نواز خاندان کے خلاف العزیزیہ ریفرنس میں پیش کی گئی دستاویزات میں بینک ٹرانزیکشن کی تفصیلات سامنے آگئیں، حسین نواز نے کروڑوں روپے والد کے اکاؤنٹس میں منتقل کئے۔نجی نیوز کے نمائندے فیاض محمود نے بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں باپ بیٹے

کے درمیان رقوم کے تبادلے کی تفصیلات پہلی بار منظر عام پر آئی ہیں حسین نواز کی والد سے محبت، ایک دن میں5 بار رقم بھیجنے کا انکشاف کیا گیا ہے ۔دو جون 2010 حسین نواز نے 5ٹرانزیکشنز میں 13لاکھ ڈالر بھجوائے ، 21 مئی 2010 سے 19 اپریل 2017 کی ٹرانزیکشنز عدالت میں جمع کی گئی ، حسین نواز کےاکاونٹ کی 100روپے کی ڈپازٹ سلپ بھی عدالت میں جمع کردی گئی ۔سال 2010 سے 2012 کے دوران 11لاکھ یورو نواز شریف کے اکاونٹ میں آئے، 23 دسمبر 2010 کو حسین نواز نے والد کو 30 یورو بھی بھجوائے۔یاد رہے آج سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت آج احتساب عدالت میں ہوگی، جہاں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء دوبارہ بیان قلمبند کروائیں گے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس پر سماعت کا آغاز کیا اور پھر سماعت میں 10 بجے تک کا وقفہ کردیا گیا۔دوسری جانب احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو حاضری کے بعد جانے کی اجازت دے دی۔آج سماعت کے دوران پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء اصل رپورٹ کے ساتھ احتساب عدالت

میں پیش ہوں گے، جہاں مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ان پر جرح کریں گے۔گزشتہ سماعت پر واجد ضیاء نے 4 گھنٹے بیان ریکارڈ کروایا تھا اور دستاویزات پیش کی تھیں۔عدالت نے گزشتہ سماعت پر مکمل جے آئی آٹی رپورٹ کوعدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنایا تھا جبکہ مریم نواز کے وکیل نے جے آئی ٹی رپورٹ کی تمام جلدیں بطور شواہد دینے پر اعتراض کیا تھا۔واجد ضیاء 21 مارچ کو فلیگ شپ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز میں بیان قلمبند کرائیں گے۔ان تینوں ریفرنسز میں واجد ضیاء کے سوا نیب کے تمام گواہوں کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں۔نیب ریفرنسز کا پس منظر۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق تھے۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔نیب کی جانب سے ان تینوں ریفرنسز کے ضمنی ریفرنسز بھی احتساب عدالت میں دائر کیے جاچکے ہیں۔(ذ،ک)

Leave a Comment