طالبان عمران خان کو وزیراعظم پاکستان بنوانا چاہتے ہیں،والد کو ہسپتال سے نکال دیا، وفات کے بعدانکا گھر تک مسمار کرا دیا، پیسوں کیلئے مختصر لباس پہنا، کپتان کی زندگی کے راز آشکار ہو گئے

اسلام آباد( م ل)طالبان پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو پاکستان کا لیڈر بنانا چاہتے ہیں، ان کی کئی قدریں ڈونلڈ ٹرمپ سے مشترک ہیں، ٹرمپ ہی کی طرح خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام بھی عائد ہو چکا، بنی گالہ میں موجود رہائش گاہ جیمز بونڈ کی فلموں کی طرح ولن کا اڈہ لگتی ہے، عمران خان بچپن میں خود کو بدصورت سمجھتے تھے، والد کو شوکت خانم ہسپتال کےبورڈ سے نکال دیا تھا، والد کے ساتھ رسمی تعلقات تھے، جب کہ والد اور والدہ کی آپس میں بات چیت بند تھی۔ والد کی وفات کے

بعد ان کا لاہور زمان پارک میں گھر مسمار کروا دیا، برطانوی جریدے کی رپورٹ میں انکشافات۔ تفصیلات کےمطابق برطانوی جریدے سنڈے ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو پاکستان کا لیڈر بنوانا چاہتے ہیں ، طالبان چاہتے ہیں کہ عمران خان پاکستان کے سربراہ کے طور پر سامنے آئیں۔ برطانوی جریدے کی رپورٹ میں عمران خان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح بوڑھے مگر دونوں اپنے بالوں کی بہت فکر کرتے ہیں۔ عمران خان پر امریکی صدر ٹرمپ ہی کی طرح خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام بھی لگ چکا ہے اور جب ان سے عائشہ گلالئی سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کے ہاتھوں میں تسبیح موجود تھی جس کے دانے انہوں نے اضطراری کیفیت میں تیزی سے گھمانے شروع کر دئیے اور کہا کہ عائشہ گلالئی نے پیسوں کیلئے ان پر الزام عائد کیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمران خان ایک اور جریدے ڈیلی مرر کیلئے مختصر لباس میں بھی تصاویر کھچوا چکے ہیں، عمران خان کا انٹرویو کرنے والے صحافی کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں مشابہ معلوم ہوتے ہیں مگر عمران خان نےڈونلڈ ٹرمپ کو بورنگ شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں روحانیت بالکل نہیں جبکہ میں اگر روحانیت کی جانب راغب نہ ہوتا

تو سیاست میں کبھی نہ آتا۔ صحافی کا کہنا تھا کہ عمران خان پاکستان میں چائنہ ماڈل لا نا چاہتے ہیں مگر اس حوالے سے ان کے پاس کوئی پلان نہیں ، اس معاملے پر جب ان کی پارٹی کے نائب صدر اس عمر سے بات کی گئی ان کا کہنا تھاکہ عمران خان کو اسٹریٹجی معاملات کا علم نہیں۔برطانوی جریدے کی رپورٹ میں اسلام آباد بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کو جیمز بونڈ فلموں کے ولن کے اڈے سے مشابہ قرار دیتے ہوئے عمران خان کے حوالے سے بتایا گیاہے کہ وہ خود کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ

معروف آدمی سمجھتے ہیں۔ رپورٹ میں عمران خان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ خود کو بچپن میں بدصورت سمجھتے تھے۔عمران خان کے والدین کے درمیان بات چیت بند تھی۔ عمران خان نے اپنے والد کو شوکت خانم اسپتال کے بورڈ سے نکال دیا تھا۔ عمران خان کے خاندان کے افراد بتاتے ہیں کہ عمران خان اور ان کے والد کے درمیان بات چیت بند تھی۔ جبکہ اس کا اعتراف خود عمران خان نے بھی کیا کہ ان کے اپنے والد سے رسمی سے تعلقات تھے ۔عمران خان کے والد 2008میں انتقال کر گئے تھے جس کےبعد انہوں نے لاہور زمان پارک میں واقع اپنے والد کا گھر بھی مسمار کرادیا ہے۔

عمران خان کا کے پی کے میں بلین ٹری لگانے کا دعویٰ سرکاری دستاویزات نے جھوٹا قرار دے دیا

پشاور(م ل): پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے صوبائی حکومت سے مل کر خیبر پختونخواہ میں بلین ٹری لگانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ تفصیلات کے مطابق حال ہی میں سامنے آنے والے سرکاری دستاویزات نے عمران خان کے اس دعوے کو جھُٹلا دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق خیبر پختونخواہ میں بلین نہیں بلکہ صرف 22 کروڑ 14 لاکھ پودے لگائے گئے ہیں۔ بلین ٹری پراجیکٹ کے ڈائریکٹر کا دعویٰ ہے کہ اب تک 40 کروڑ پودے لگا دئے گئے ہیں، اور 16 کروڑ پودے لوگوں میں تقسیم کر دئے گئے جبکہ باقی 60 فیصد حصہ جنگلات کو محفوظ بنا کر حاصل کر لیا ہے۔

کے پی کے حکومت نے اس منصوبے کو اپنی کامیابی قرار دیا تھا، اور سی منصوبے کی بنیاد پر ایک مشیر اشتیاق ارمڑ کو وزیر بھی بنادیا گیا

سرکاری دستاویزات کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن میں 11 کروڑ 18 لاکھ 12 ہزار225 جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں ایک کروڑ 21 لاکھ 23 ہزار 958 پودے لگائے گئے ہیں۔ ہزارہ ڈویژن میں 8 کروڑ، 27 لاکھ 69 ہزار 908 اور کوہاٹ ڈویژن میں 84 لاکھ 22 ہزار 861 جبکہ مردان ڈویژن میں 63 لاکھ 5 ہزار 133 پودے لگائے گئے۔ سرکاری دستاویزات سامنے آنے پر عمران خان کا بلین ٹری منصوبے سے متعلق دعویٰ جھوٹا قرار پایا جس پر کے پی کے حکومت اور عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

صرف رنگ روپ بدلنے سے خصلت نہیں بدلتی: کے پی کے پولیس عاصمہ رانی کیس میں لواحقین سے کیا مطالبہ کر رہی ہے؟ مقتولہ کی بہن نے ناقابل یقین بات کہہ دی

کوہاٹ(م ل ) کوہاٹ میں قتل کی گئی میڈیکل کالج کی طالبہ عاصمہ رانی کی بہن صفیہ رانی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس ان پر بیان واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔برطانیہ کی کاؤنٹی بیڈفورڈشائر کے علاقے لوٹن میں مقامی پختون جرگے میں نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے صفیہ رانی نے بتایا کہ کے پی پولیس دباؤ ڈال رہی ہے کہ

وہ اپنا یہ بیان واپس لیں کہ پولیس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما کے بھانجے مجاہد آفریدی کی دھمکیوں سے آگاہ تھی اور اس نے ہماری فیملی کی کوئی مدد نہیں کی اور نہ ہی ملزم کو ملک سے فرار ہونے سے روکنے کی کوئی کوشش کی۔صفیہ رانی نے کہا کہ ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود کے پی حکومت ان کی بہن کے قاتل کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر قصور کی زینب کے قاتل تیزی سے گرفتار کیے جاسکتے ہیں تو ان کی بہن کاقاتل کیوں نہیں پکڑا جاسکتا؟۔مقتولہ عاصمہ کی بہن صفیہ نے کہا کہ ‘کے پی پولیس اور حکومت نے کئی مرتبہ مجھ سے رابطہ کیا اور بار بار مجھ سے یہی کہا کہ کے پی پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے کوئی بیان نہ دوں اور اپنا پہلا بیان بھی واپس لے لوں’۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘جب تک قاتل مجاہد آفریدی کو گرفتار کرکے پھانسی نہیں دی جاتی میں خاموش نہیں بیٹھوں گی، میرا مقصد صرف انصاف کا حصول ہے’۔واضح رہے کہ اس سے قبل صفیہ رانی نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی بہن عاصمہ رانی کو ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا جبکہ مجاہد آفریدی نے پہلے سے ہی سعودی عرب کا ویزہ حاصل کر رکھا تھا۔

صفیہ رانی نے کہا کہ مجاہد آفریدی نے پہلے بھی عاصمہ کو راستے میں روکا اور پرس چھینا تھا، جس کے بعد والدہ نے عاصمہ کو ملنے والی قتل کی دھمکیوں سے پولیس کو آگاہ کیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما آفتاب عالم کو علم تھا کہ ان کا بھتیجا عاصمہ کو دھمکیاں دے رہا ہے۔یاد رہے کہ 28 جنوری کو کوہاٹ میں تحریک انصاف کے ضلعی صدر آفتاب عالم کے بھتیجے مجاہد نے رشتے سے انکار پر ایبٹ آباد میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ عاصمہ رانی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ملزم مجاہد میڈیکل کالج کی طالبہ کو قتل کرنے کے فوری بعد اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے غیر ملکی پرواز کے ذریعے سعودی عرب فرار ہو گیا تھا۔جس کے بعد خیبر پختونخوا پولیس نے ملزم مجاہد آفریدی کی گرفتاری کے لیے سعودی انٹرپول سے مدد طلب کر رکھی ہے۔ہفتہ 2 فروری کو پولیس نے عاصمہ کے قتل کے مفرور ملزم مجاہد آفریدی کے دوست اور معاون شاہ زیب کو گرفتار کیا تھا، جو عاصمہ کی جاسوسی کیا کرتا تھا، قتل کے وقت بھی وہ ملزم مجاہد کے ساتھ ہی تھا اور اسی نے واردات کے بعد مجاہد کو فرار ہونے میں مدد فراہم کی تھی۔قبل ازیں عاصمہ کے قتل میں گرفتار ایک اور ملزم صادق اللہ کی نشاندہی پر قتل میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کیا جاچکا ہے۔دوسری جانب چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے بھی عاصمہ کے قتل کا ازخودنوٹس لے رکھا ہے۔

عاصمہ رانی قتل میں نیا موڑ:مرکزی ملزم کا دستِ راست گرفتار، نیا انکشاف ہو گیا

کوہاٹ (م ل)کے پی کے پولیس ابھی تک کافی لوگوں کو شاملِ تفتیش کر چکی ہے۔ پولیس نے کوہاٹ کے علاقے کے ڈی اے میں کارروائی کرتے ہوئے عاصمہ رانی قتل کیس کے مرکزی ملزم مجاہداللہ آفریدی کے قریبی دوست شاہزیب کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار ملزم اپنے دوست کیلئے عاصمہ رانی کی جاسوسی کیا کرتا تھا جبکہ واردات کے بعد اس نے ملزم

کو بیرون ملک فرار میں بھی مدد فراہم کی۔

پولیس کے مطابق عاصمہ رانی قتل کیس کے مرکزی ملزم مجاہد اللہ کاقریبی دوست شاہ زیب گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزم شاہ زیب کوہاٹ کے علاقے کے ڈی اے میں رہتا ہے جبکہ عاصمہ رانی کا قتل بھی کوہاٹ میں ہی ہوا ہے۔ ملزم شاہ زیب مقتولہ عاصمہ پر نظر رکھتا تھا اور اس کی جاسوسی کرکے اس سے متعلق معلومات مرکزی ملزم مجاہد کو دیتاتھا۔عاصمہ رانی کے قتل والے دن ملزم شاہ زیب مجاہد کے ساتھ تھا ، واردات کے بعد شاہزیب نے ہی مرکزی ملزم کو بیرون ملک فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔دوسری جانب عاصمہ رانی کے قتل کے وقت مرکزی ملزم مجاہد اللہ کے ساتھ آنے والے ملزم صادق کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے اور اس کی نشاندہی پر آلہ قتل برآمد کرلیاگیا ہے۔

واضح رہے کہ ایبٹ آباد میڈیکل کالج کی تھرڈ ائیر کی طالبہ عاصمہ چھٹیوں پر کوہاٹ آئی تھی جہاں اسے 27 جنوری کو اس وقت اسے گولیوں سے نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی بھابھی کے ساتھ رکشہ پر گھر پہنچی تھی ۔ عاصمہ کے گھر پہنچنے سے قبل ہی ملزم مجاہد اپنے ساتھی صادق کے ساتھ گھر کے باہر موجود تھا

جس نے موقع پر ہی فائرنگ کردی ، عاصمہ کو تین گولیاں لگیں جبکہ ملزمان فرار ہوگئے۔میڈیکل کی طالبہ کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ ایک روز بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔عاصمہ کی جانب سے ہسپتال میں دیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اس پر فائرنگ کرنے والا مجاہد آفریدی تھا۔یاد رہے عاصمہ رانی قتل کیس میں نامزد ملزم صادق اللہ کے ریمانڈ میں مزید ایک روز کی توسیع کردی گئی جبکہ بیرون ملک فرار مرکزی ملزم مجاہد آفریدی کی گرفتاری کے لئے کوششیں جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق عاصمہ رانی قتل کے مقدمے میں کے پی کےپولیس نےنامزد ملزم صادق اللہ کو سول جج ون کوہاٹ کی عدالت میں پیش کیا اور ریمانڈ میں تین دن توسیع کرنے کی استدعا کی، جس پرعدالت نے ریمانڈ میں ایک روز کی توسیع کردی۔قتل کے مرکزی ملزم مجاہد اللہ آفریدی کی گرفتاری کیلئے کے پی کے پولیس کی درخواست پر ایف آئی اے نےانٹرپول سے مدد طلب کرلی اور ملزم سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کردی۔یاد رہے کہ کوہاٹ پولیس نے میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کے قتل میں نامزد مرکزی ملزم مجاہداللہ آفریدی کا بھائی صادق آفریدی کوگرفتار کرکے میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ڈی پی اوکوہاٹ کا کہنا تھا کہ دوسرا ملزم بھی جلدقانون کی گرفت میں ہوگا، تفتیشی ٹیم نے فوری رابطہ کرکے ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالےگئے، پولیس اور تحقیقاتی اداروں کی طرف سے کوئی غفلت نہیں ہوئی۔واضح رہے گزشتہ ہفتے مجاہد اللہ آفریدی نے رشتے سے انکار پرمستقبل کی ڈاکٹر ،عاصمہ رانی کو گولیاں مار کرکے قتل کردیا تھا اور سعودی عرب فرارہوگیا تھا۔مقتولہ نے دم توڑنے سے قبل اپنے اہل خانہ کو مجاہد آفریدی کا نام بتایا تھا۔(ذ،ک)

بڑی پابندی عائد، مریم نواز کی کوریج نہیں ہو گی، ٹی وی چینلزکو حکم جاری کر دیا گیا

اسلام آباد (م ل)مریم نواز کا گوجرانوالہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب، نجی ٹی وی چینلز کو کوریج سے روک دیا گیا، صرف پی ٹی وی کو کوریج کی اجازت۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے آج گوجرنوالہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کیا ہے۔ ان کے خطاب سے قبل ن لیگ کی جانب سے تمام نجی ٹی وی چینل کو کوریج سے روک دیا گیا تھا

اور صرف پی ٹی وی وی کوریج کی اجازت دی گئی تھی۔ ن لیگ کی جانب سے مریم نواز کے حوالے سے میڈیا پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بعد اب ان کے بیانات اور ٹی وی کوریج صرف پی ٹی وی پر ہی کی جائے اور وہ اب صرف پی ٹی وی پر ہی نظر آئیں گی۔ مریم نواز کے حوالے سے اس پالیسی کے پیچھے ن لیگ کی جانب سے کوئی توجہ تاحال بیان نہیں کی گئی۔

راؤ انوار کی گرفتاری،حساس ادارے متحرک ،کہاں کہاں چھاپے مارے،نتیجہ کیا نکلا

کراچی(آن لائن)مبینہ پولیس مقابلے میں 13 جنوری کو مارے گئے نقیب اللہ محسود کے قتل کیس میں نامزد سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت کی گرفتاری کے لیے ملیر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے۔ذرائع کے مطابق حساس ادارے نے چھاپے راؤ انوار اور سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت کی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں پر مارے، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹنے نقیب اللہ محسود کے قتل کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے بعد انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ اے ڈی خواجہ کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے مزید 10 دن کا وقت دیا تھا۔سماعت کے دوران آئی جی سندھ نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی تھی کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کہا جائے کہ راؤ انوار کی گرفتاری میں ان کی معاونت کریں۔جس پر سپریم کورٹ نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سندھ پولیس کی معاونت کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)، انٹرسروسز انٹیلی جنسی (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) راؤ انوار کو ڈھونڈنے میں پولیس کو مکمل سپورٹ فراہم کریں۔واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 13 جنوری کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے کے دوران 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، جن میں 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود بھی شامل تھا۔بعدازاں نقیب اللہ محسود کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا۔بعدازاں آئی جی سندھ کی جانب سے تشکیل دی گئیتحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کی، جس کے باعث انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا،

جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملے کا از خود نوٹس لیا۔گذشتہ ماہ 27 جنوری کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پولیس کو راؤ انوار کو گرفتار کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔ان کی تلاش میں اسلام آباد میں بھی چھاپہ مارا گیا، لیکن راؤ انوار کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔جس کے بعد سپریم کورٹ نے یکم فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران آئی جی سندھ کو راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے مزید 10 دن کی مہلت دی اور ساتھ ہی حساس اداروں کو بھی اے ڈی خواجہ کی معاونت کی ہدایت دی۔

 

میں گھر میں اکیلی تھی کہ دو لڑکے دیوار پھلانگ کر اندر آگئے اور گن پوائنٹ پر مجھے برہنہ کیا، میں زمین پر گر گئی اور اس کے ساتھ ہی زمین ہلنے لگ گئی، زلزلے کے دوران خیبرپختونخوا کی لڑکی کیساتھ کیا ہوا؟

 (مبشر لقمان)گزشتہ روز آنیوالے زلزلے نے جہاں پاکستان بھر کو ہلا کر  رکھ دیا وہاں کئی ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جو کئی سالوں تک لوگوں کے ذہنوں میں محو رہیں گے۔ اسی طرح کی ایک خبر خیبرپختونخواہ سے بھی موصول ہوئی نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخواہ کے علاقہ چارسدہ کے تھانے پڑانگ کی حدود میں میاں کلے میں زلزلے کے

کچھ دیر پہلے و اوباش نوجوانوں واصف اور اعظم دیوار پھلانگ کر فقیر گل نامی شخص کے گھر داخل ہو گئے اور اس کی 16سالہ بیٹی ’ع‘ کو گن پوائنٹ پر کمرے کے اندر لے گئے اور زبر دستی ان کے کپڑے اتا ر کر ویڈیو بنا کر بد فعلی کی کو شش کر رہے تھے کہ اس دوران خوفناک زلزلہ آگیا جس سے خواس باختہ ہو کر ملزمان فرار ہو گئے ۔تھانہ پڑانگ میں متاثرہ لڑکی نے پولیس کو رپورٹ درج کر تے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ ختم القرآن کیلئے رشتہ داروں کے گھر گئی تھی اور وہ گھر میں اکیلی تھی کہ اس دوران مذکورہ ملزمان دیوار پھلانگ کر گھر کے اندر داخل ہوئے۔ دونوں ملزمان پستول تان ان کو زبر دستی کمرے کے اندر لے گئے ۔ایس ایچ او تھانہ پڑانگ منصور خان کا کہنا ہے کہ شکایت موصول ہوتے ہی پولیس نے ضروری کارروائی سے قبل میڈیکل کیلئے مقامی ہسپتال بھیجا جہاں سے میڈیکل رپورٹ موصول ہو گئی ہے جس میں زیادتی کا کوئی ذکر نہیں تاہم ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس نے کارروائی شروع کر دی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی خیبرپختونخواہ میں کوہاٹ کے علاقہ میں ایک جوان طالبہ کو شادی سے انکار پر قتل کر دیا گیا ہے جبکہ مردان میں 4سالہ ننھی بچی اسما کو زیادتی کے بعد قتل کرکے اس کی لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی تھی۔ خیبرپختونخواہ میں جنسی درندگی کے پے درپے واقعات سامنے آنے پر پورے ملک میں تشویش کی لہر محسوس کی جا رہی ہے۔

میر ہزار خان بجارانی کو قتل کیا گیا یا خود کشی تھی؟ واقعہ نیا رُخ اختیار کر گیا، تمام گولیاں نشانے پر نہیں لگیں بلکہ تین گولیاں۔۔۔! حیرت انگیز انکشافات

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیفنس کے علاقے میں گھر سے صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی لاشیں ملی ہیں جس کے بارے کہاجا رہا ہے کہ واقعہ صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب پیش آیا اور اس وقت ملازمین بھی گھر پر نہیں تھے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق جس وقت واقعہ پیش آیا اس وقت ملازمین گھر پر موجود نہیں تھے اور یہ واقعہ صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب پیش آیا، دونوں میاں بیوی کے سر میں ایک ایک گولی لگی جبکہ

ایک گولی کا نشان دیوار پر بھی موجود تھا اور مس ہو جانے والی تین گولیاں چیمبر میں موجود ہیں، میر ہزار خان بجارانی کی لاش صوفے پر پڑی تھی جبکہ اہلیہ کی لاش فرش پر پڑی تھی۔دریں اثناء ڈیفنس کے علاقے میں گھر سے صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی اور اہلیہ فریحہ رزاق کی لاشیں ملی ہیں، کراچی کے علاقے ڈیفنس کے ایک گھر سے صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کی لاشیں ملی ہیں۔ صوبائی وزیر کے پرائیوٹ سیکریٹری اللہ ورایو نے تصدیق کی ہے کہ میر ہزار خان بجارانی مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق میر ہزار خان بجارانی اور انکی اہلیہ فریحہ رزاق کو گولیاں لگی ہیں۔ذرائع کے مطابق اہل خانہ کا بتانا ہے کہ کمرے کا دروازہ توڑ کر دونوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔ریسکیو ذرائع کے مطابق ون فائیو پر اطلا ع ملی تھی کہ ایک گھر سے دو لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔میر ہزار خان بجارانی1974 اور 1977میں سندھ کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ 1988 میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔وہ مسلسل چار انتخابات سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ان کے صاحبزادے بھی رکن اسمبلی تھے۔سن2013 کے عام انتخابات میں میر ہزار خان بجارانی سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 16 سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، ان کے پاس پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی وزارت کا قلمدان تھا۔میرہزار خان بجارانی جیکب آباد سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

مرحوم پی ایس 16 جیکب آباد سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور سندھ کے وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ تھے۔میر ہزار خان بجارانی کا تعلق کرم پور تعلقہ تنگوانی ضلع کشمور کندھ کوٹ سے تھا۔ وہ وزیر تعلیم اور وزیر صنعت و پیداوار بھی رہ چکے ہیں۔مرحوم نے 1966 میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، افسوسناک اطلاع کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماان کے گھر پہنچ گئے۔ادھرنجی ٹی وی دنیا نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دونوں کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ میر ہزار خان بجارانی نے خودکشی کی ہے کیونکہ گولیاں ان کے سر میں لگی ہیں۔ انہوں نے پہلے اپنی اہلیہ کو قتل کیا اور پھر خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔ پولیس نے جائے وقوعہ نے اسلحہ اور گولیوں کے خول بھی برآمد کر لئے ہیں۔

ایف آئی اے حکام نے بٹ خیلہ سے چائلڈ پورنو گرافرگرفتارکر لیا

پشاور(مبشر لقمان): ایف آئی اے حکام نے بٹ خیلہ سے چائلڈ پورنو گرافرگرفتارکر لیا.تفصیلات کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی اخلاقی گراوٹ کی نشانی ہیں.بچوں کی برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بنا کر انہیں اپلوڈ کرنا بھی ایک انتہائی اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے.چند روز

پہلے جھنگ سے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ چائلڈ پورنو گرافر کو گرفتار کیا گیا تھا .اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے حکام نے بٹ خیلہ سے چائلڈ پورنو گرافرگرفتارکر لیا.ملزم نے سوشل میڈیا پر خاتون کے نام سے جعلی اکاونٹ بنایا تھا.ملزم بچوں کیساتھ دوستی کرکے ویڈیو اورتصاویر بناتا تھا.ملزم کو تفتیش کے لیے پشاور منتقل کر دیا گیا.

نقیب اللہ محسود قتل کیس ،معاملہ عدالت سے باہر ہی نمٹ گیا،مقتول کے خاندان کے بڑوں کے ساتھ ملکر راؤ انوار نے خاموشی سے کیا کام کردیا؟ حیرت انگیزانکشافات

کراچی (مبشر لقمان ) نقیب اللہ محسود قتل کیس میں خاندان سے دیت کے معاملات طے پانے کے قریب ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نقیب اللہ کے خاندان سے راؤ انوار کی جانب سے دیت کے معاملات طے کیے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں نقیب اللہ کے خاندان کے بڑوں کو آن بورڈ لے لیا گیا ہے۔ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی اگلی سماعت سے قبل دیت کا معاملہ طے پا جائے گا۔ ذرائع نے کہا کہ راؤ انوار کی جانب سے دیت کے معاملات کون طے کر رہا ہے یہ ابھی نہیں بتا