کتنے فیصد لڑکیاں سکول نہیں جاتیں؟بلند و بانگ دعوے کرنیوالی خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

پشاور(اے این این ) غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کے شعبہ تعلیم کے حوالے سے پیش کی گئی ایک رپورٹ پیش میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ صوبے بھر میں 51 فیصد لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں۔نجی ٹی وی کے مطابق الف اعلان نامی تنظیم کی اس رپورٹ میں خیبرپختونخوا میں 5 برسوں کی تعلیمی چلینجز اور اصلاحات کا جائزہ لیا گیا، اس رپورٹ کی تقریب رونمائی میں تعلیم کے وزیر محمد عاطف خان

اور دیگر ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔رپورٹ میں پاکستان ایجوکیشن اسٹیٹ اسٹکس کے 16-2015 کے اعداد و شمار کو نقل کرتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں لڑکیاں زیادہ نقصان میں ہیں اور 51 فیصد لڑکیاں اسکول نہیں جاتی۔رپورٹ میں صوبائی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اسکولوں میں کلاس رومز، چار دیواری، پینے کا پانی اور واش رومز سمیت دیگر ترقیاتی کاموں پر 30 ارب روپے خرچ کیے۔اس رپورٹ کے مطابق انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں خیبرپختونخوا دیگر صوبوں کی بنسبت سب سے آگے ہے، تاہم سب سے بڑا چیلنج پرائمری اسکول کے تمام بچوں کو اسکول جانے کا اختیار دینے کا ہے اور حکومت کے لیے سب سے اہم چلینج 10 سے 16 سال کے بچوں کو ہائی اور ہائر سیکینڈری اسکول بھیجنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ تمام اسکولوں میں سے 9.76 فیصد مڈل اسکول اور 8.13 فیصد ہائی اسکول موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ فرق بہت اہم ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت 5 سال سے 16 سال کی عمر کے تمام بچوں کو تعلیم کا حق ہے۔اس کے مطابق پرائمری اسکول مڈل اور ہائی اسکول کے مقابلے میں مجموعی طور پر زیادہ ہیں ان کا تناسب 4:1 ہے اور ہائی اسکول کے مقابلے میں پرائمری اسکول میں داخلوں کی تعداد میں

کچھ حد تک جبکہ ہائی اسکول میں کافی حد تک بہتری دیکھی گئی۔پرائمری اسکول میں داخلوں کی شرح داخلوں کی شرح بڑھ کر 4.54 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ مڈل اسکول میں یہ شرح 2.3 فیصد اور ہائی اسکول میں 26.96 فیصد رہی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے تعلیم کے معیار میں کمی پر بھی توجہ مرکوز نہیں کی گئی جبکہ خیبرپختونخوا کے اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعلیمی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ہنگامی طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آج کی بڑی خبر لفافے کھور اینکر پر سپریم کورٹ نے بڑی پابندی عائد کردی

چیف جسٹس نے ڈاکٹر شاہد مسعود کا پروگرام تین مہینے کیلئے بند کرنے کا حکم دیدیا، آپ نے پھانسی مانگی تھی وہ نہیں دے رہے جسٹس ثاقب نثار دوران سماعت اینکر پر برس پڑے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) شاہد مسعود کی ہمت کیسے ہوئی کہ عدالت کے لا افسر کی تضحیک کریں، دیکھتا ہوں کہ کتنے دن آپ کا پروگرام چلتا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود پر برہم۔ تفصیلات کے مطابق زینب قتل کیس ازخود نوٹس کیس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کی جھوٹے دعوئوں سے متعلق کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوئی۔

اس موقع پر ڈاکٹرشاہد مسعود بھی اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار ڈاکٹر شاہد مسعود پر برس پڑے اور سخت اظہار برہمی کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’’ شاہد مسعود کی ہمت کیسے ہوئی کہ عدالت کے لاءافسر کی تضحیک کرے، میں دیکھتاہوں کتنے دن آپ کا پروگرام چلتاہے‘‘۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ شاہد مسعود نے سماعت کے بعد اپنے پروام میں لا افسر کی تضحیک کی ہے۔ ان کے پروگرام کی ریکارڈنگ چلاتے ہیں، اس موقع پر چیف جسٹس نے عدالت میں پروجیکٹر لگانے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ توہین عدالت میں چارج کروں گا، میں نے توہین عدالت میں چارج کرنا ہے تو اسکرین لگوالیتےہیں۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نےآپ سے محبت کی اسی لیےعزت سےپیش آرہے ہیں، وکیل صاحب انہیں سمجھائیں عزت کرانی بھی پڑتی ہے، ایک آدمی جو جھوٹ بول رہا ہو اور عدالت میں جھوٹ بولے، ایسے شخص کے کیس کو سن لیتےہیں۔وکیل کا کہنا تھا کہ زینب کے وکیل آج ہائی کورٹ میں ڈی این اے سے متعلق بات کریں گے، جس پر عدالت نے کہا کہ انہوں نے بازو اوپر کرکے بات کی‘ ہم نے پہلے ان کو دیکھنا ہے۔بعد ازاں سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت میں وقفہ ہوگیا ، کچھ دیرمیں دوبارہ سماعت شروع ہونے پر چیف جسٹس دوبارہ عدالت میں تشریف لائے ۔سماعت کے دوران شاہد مسعود نے سپریم کورٹ سےغیر مشروط معافی مانگ لی ۔ چیف جسٹس نے ڈاکٹر شاہد مسعودکا پروگرام تین مہینے کیلئے بند کرنے کا اعلان حکم دیدیا ہے۔ چیف جسٹس کا فیصلہ سناتے ہوئے شاہد مسعود کو کہا کہ آپ نے پھانسی مانگی تھی وہ نہیں دے رہے۔

احتساب عدالت میں نواز شریف کی بڑی چوری پکڑی گئی،کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف

اسلام آباد(ویب ڈیسک) احتساب عدالت میں نواز خاندان کے خلاف العزیزیہ ریفرنس میں پیش کی گئی دستاویزات میں بینک ٹرانزیکشن کی تفصیلات سامنے آگئیں، حسین نواز نے کروڑوں روپے والد کے اکاؤنٹس میں منتقل کئے۔نجی نیوز کے نمائندے فیاض محمود نے بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں باپ بیٹے

کے درمیان رقوم کے تبادلے کی تفصیلات پہلی بار منظر عام پر آئی ہیں حسین نواز کی والد سے محبت، ایک دن میں5 بار رقم بھیجنے کا انکشاف کیا گیا ہے ۔دو جون 2010 حسین نواز نے 5ٹرانزیکشنز میں 13لاکھ ڈالر بھجوائے ، 21 مئی 2010 سے 19 اپریل 2017 کی ٹرانزیکشنز عدالت میں جمع کی گئی ، حسین نواز کےاکاونٹ کی 100روپے کی ڈپازٹ سلپ بھی عدالت میں جمع کردی گئی ۔سال 2010 سے 2012 کے دوران 11لاکھ یورو نواز شریف کے اکاونٹ میں آئے، 23 دسمبر 2010 کو حسین نواز نے والد کو 30 یورو بھی بھجوائے۔یاد رہے آج سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت آج احتساب عدالت میں ہوگی، جہاں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء دوبارہ بیان قلمبند کروائیں گے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس پر سماعت کا آغاز کیا اور پھر سماعت میں 10 بجے تک کا وقفہ کردیا گیا۔دوسری جانب احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو حاضری کے بعد جانے کی اجازت دے دی۔آج سماعت کے دوران پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء اصل رپورٹ کے ساتھ احتساب عدالت

میں پیش ہوں گے، جہاں مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ان پر جرح کریں گے۔گزشتہ سماعت پر واجد ضیاء نے 4 گھنٹے بیان ریکارڈ کروایا تھا اور دستاویزات پیش کی تھیں۔عدالت نے گزشتہ سماعت پر مکمل جے آئی آٹی رپورٹ کوعدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنایا تھا جبکہ مریم نواز کے وکیل نے جے آئی ٹی رپورٹ کی تمام جلدیں بطور شواہد دینے پر اعتراض کیا تھا۔واجد ضیاء 21 مارچ کو فلیگ شپ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنسز میں بیان قلمبند کرائیں گے۔ان تینوں ریفرنسز میں واجد ضیاء کے سوا نیب کے تمام گواہوں کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں۔نیب ریفرنسز کا پس منظر۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق تھے۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔نیب کی جانب سے ان تینوں ریفرنسز کے ضمنی ریفرنسز بھی احتساب عدالت میں دائر کیے جاچکے ہیں۔(ذ،ک)

طالبان عمران خان کو وزیراعظم پاکستان بنوانا چاہتے ہیں،والد کو ہسپتال سے نکال دیا، وفات کے بعدانکا گھر تک مسمار کرا دیا، پیسوں کیلئے مختصر لباس پہنا، کپتان کی زندگی کے راز آشکار ہو گئے

اسلام آباد( م ل)طالبان پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو پاکستان کا لیڈر بنانا چاہتے ہیں، ان کی کئی قدریں ڈونلڈ ٹرمپ سے مشترک ہیں، ٹرمپ ہی کی طرح خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام بھی عائد ہو چکا، بنی گالہ میں موجود رہائش گاہ جیمز بونڈ کی فلموں کی طرح ولن کا اڈہ لگتی ہے، عمران خان بچپن میں خود کو بدصورت سمجھتے تھے، والد کو شوکت خانم ہسپتال کےبورڈ سے نکال دیا تھا، والد کے ساتھ رسمی تعلقات تھے، جب کہ والد اور والدہ کی آپس میں بات چیت بند تھی۔ والد کی وفات کے

بعد ان کا لاہور زمان پارک میں گھر مسمار کروا دیا، برطانوی جریدے کی رپورٹ میں انکشافات۔ تفصیلات کےمطابق برطانوی جریدے سنڈے ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو پاکستان کا لیڈر بنوانا چاہتے ہیں ، طالبان چاہتے ہیں کہ عمران خان پاکستان کے سربراہ کے طور پر سامنے آئیں۔ برطانوی جریدے کی رپورٹ میں عمران خان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح بوڑھے مگر دونوں اپنے بالوں کی بہت فکر کرتے ہیں۔ عمران خان پر امریکی صدر ٹرمپ ہی کی طرح خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام بھی لگ چکا ہے اور جب ان سے عائشہ گلالئی سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کے ہاتھوں میں تسبیح موجود تھی جس کے دانے انہوں نے اضطراری کیفیت میں تیزی سے گھمانے شروع کر دئیے اور کہا کہ عائشہ گلالئی نے پیسوں کیلئے ان پر الزام عائد کیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمران خان ایک اور جریدے ڈیلی مرر کیلئے مختصر لباس میں بھی تصاویر کھچوا چکے ہیں، عمران خان کا انٹرویو کرنے والے صحافی کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں مشابہ معلوم ہوتے ہیں مگر عمران خان نےڈونلڈ ٹرمپ کو بورنگ شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں روحانیت بالکل نہیں جبکہ میں اگر روحانیت کی جانب راغب نہ ہوتا

تو سیاست میں کبھی نہ آتا۔ صحافی کا کہنا تھا کہ عمران خان پاکستان میں چائنہ ماڈل لا نا چاہتے ہیں مگر اس حوالے سے ان کے پاس کوئی پلان نہیں ، اس معاملے پر جب ان کی پارٹی کے نائب صدر اس عمر سے بات کی گئی ان کا کہنا تھاکہ عمران خان کو اسٹریٹجی معاملات کا علم نہیں۔برطانوی جریدے کی رپورٹ میں اسلام آباد بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کو جیمز بونڈ فلموں کے ولن کے اڈے سے مشابہ قرار دیتے ہوئے عمران خان کے حوالے سے بتایا گیاہے کہ وہ خود کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ

معروف آدمی سمجھتے ہیں۔ رپورٹ میں عمران خان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ خود کو بچپن میں بدصورت سمجھتے تھے۔عمران خان کے والدین کے درمیان بات چیت بند تھی۔ عمران خان نے اپنے والد کو شوکت خانم اسپتال کے بورڈ سے نکال دیا تھا۔ عمران خان کے خاندان کے افراد بتاتے ہیں کہ عمران خان اور ان کے والد کے درمیان بات چیت بند تھی۔ جبکہ اس کا اعتراف خود عمران خان نے بھی کیا کہ ان کے اپنے والد سے رسمی سے تعلقات تھے ۔عمران خان کے والد 2008میں انتقال کر گئے تھے جس کےبعد انہوں نے لاہور زمان پارک میں واقع اپنے والد کا گھر بھی مسمار کرادیا ہے۔

عمران خان کا کے پی کے میں بلین ٹری لگانے کا دعویٰ سرکاری دستاویزات نے جھوٹا قرار دے دیا

پشاور(م ل): پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے صوبائی حکومت سے مل کر خیبر پختونخواہ میں بلین ٹری لگانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ تفصیلات کے مطابق حال ہی میں سامنے آنے والے سرکاری دستاویزات نے عمران خان کے اس دعوے کو جھُٹلا دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق خیبر پختونخواہ میں بلین نہیں بلکہ صرف 22 کروڑ 14 لاکھ پودے لگائے گئے ہیں۔ بلین ٹری پراجیکٹ کے ڈائریکٹر کا دعویٰ ہے کہ اب تک 40 کروڑ پودے لگا دئے گئے ہیں، اور 16 کروڑ پودے لوگوں میں تقسیم کر دئے گئے جبکہ باقی 60 فیصد حصہ جنگلات کو محفوظ بنا کر حاصل کر لیا ہے۔

کے پی کے حکومت نے اس منصوبے کو اپنی کامیابی قرار دیا تھا، اور سی منصوبے کی بنیاد پر ایک مشیر اشتیاق ارمڑ کو وزیر بھی بنادیا گیا

سرکاری دستاویزات کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن میں 11 کروڑ 18 لاکھ 12 ہزار225 جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں ایک کروڑ 21 لاکھ 23 ہزار 958 پودے لگائے گئے ہیں۔ ہزارہ ڈویژن میں 8 کروڑ، 27 لاکھ 69 ہزار 908 اور کوہاٹ ڈویژن میں 84 لاکھ 22 ہزار 861 جبکہ مردان ڈویژن میں 63 لاکھ 5 ہزار 133 پودے لگائے گئے۔ سرکاری دستاویزات سامنے آنے پر عمران خان کا بلین ٹری منصوبے سے متعلق دعویٰ جھوٹا قرار پایا جس پر کے پی کے حکومت اور عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

صرف رنگ روپ بدلنے سے خصلت نہیں بدلتی: کے پی کے پولیس عاصمہ رانی کیس میں لواحقین سے کیا مطالبہ کر رہی ہے؟ مقتولہ کی بہن نے ناقابل یقین بات کہہ دی

کوہاٹ(م ل ) کوہاٹ میں قتل کی گئی میڈیکل کالج کی طالبہ عاصمہ رانی کی بہن صفیہ رانی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس ان پر بیان واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔برطانیہ کی کاؤنٹی بیڈفورڈشائر کے علاقے لوٹن میں مقامی پختون جرگے میں نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے صفیہ رانی نے بتایا کہ کے پی پولیس دباؤ ڈال رہی ہے کہ

وہ اپنا یہ بیان واپس لیں کہ پولیس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما کے بھانجے مجاہد آفریدی کی دھمکیوں سے آگاہ تھی اور اس نے ہماری فیملی کی کوئی مدد نہیں کی اور نہ ہی ملزم کو ملک سے فرار ہونے سے روکنے کی کوئی کوشش کی۔صفیہ رانی نے کہا کہ ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود کے پی حکومت ان کی بہن کے قاتل کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر قصور کی زینب کے قاتل تیزی سے گرفتار کیے جاسکتے ہیں تو ان کی بہن کاقاتل کیوں نہیں پکڑا جاسکتا؟۔مقتولہ عاصمہ کی بہن صفیہ نے کہا کہ ‘کے پی پولیس اور حکومت نے کئی مرتبہ مجھ سے رابطہ کیا اور بار بار مجھ سے یہی کہا کہ کے پی پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے کوئی بیان نہ دوں اور اپنا پہلا بیان بھی واپس لے لوں’۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘جب تک قاتل مجاہد آفریدی کو گرفتار کرکے پھانسی نہیں دی جاتی میں خاموش نہیں بیٹھوں گی، میرا مقصد صرف انصاف کا حصول ہے’۔واضح رہے کہ اس سے قبل صفیہ رانی نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی بہن عاصمہ رانی کو ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا جبکہ مجاہد آفریدی نے پہلے سے ہی سعودی عرب کا ویزہ حاصل کر رکھا تھا۔

صفیہ رانی نے کہا کہ مجاہد آفریدی نے پہلے بھی عاصمہ کو راستے میں روکا اور پرس چھینا تھا، جس کے بعد والدہ نے عاصمہ کو ملنے والی قتل کی دھمکیوں سے پولیس کو آگاہ کیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما آفتاب عالم کو علم تھا کہ ان کا بھتیجا عاصمہ کو دھمکیاں دے رہا ہے۔یاد رہے کہ 28 جنوری کو کوہاٹ میں تحریک انصاف کے ضلعی صدر آفتاب عالم کے بھتیجے مجاہد نے رشتے سے انکار پر ایبٹ آباد میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ عاصمہ رانی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ملزم مجاہد میڈیکل کالج کی طالبہ کو قتل کرنے کے فوری بعد اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے غیر ملکی پرواز کے ذریعے سعودی عرب فرار ہو گیا تھا۔جس کے بعد خیبر پختونخوا پولیس نے ملزم مجاہد آفریدی کی گرفتاری کے لیے سعودی انٹرپول سے مدد طلب کر رکھی ہے۔ہفتہ 2 فروری کو پولیس نے عاصمہ کے قتل کے مفرور ملزم مجاہد آفریدی کے دوست اور معاون شاہ زیب کو گرفتار کیا تھا، جو عاصمہ کی جاسوسی کیا کرتا تھا، قتل کے وقت بھی وہ ملزم مجاہد کے ساتھ ہی تھا اور اسی نے واردات کے بعد مجاہد کو فرار ہونے میں مدد فراہم کی تھی۔قبل ازیں عاصمہ کے قتل میں گرفتار ایک اور ملزم صادق اللہ کی نشاندہی پر قتل میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کیا جاچکا ہے۔دوسری جانب چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے بھی عاصمہ کے قتل کا ازخودنوٹس لے رکھا ہے۔

عاصمہ رانی قتل میں نیا موڑ:مرکزی ملزم کا دستِ راست گرفتار، نیا انکشاف ہو گیا

کوہاٹ (م ل)کے پی کے پولیس ابھی تک کافی لوگوں کو شاملِ تفتیش کر چکی ہے۔ پولیس نے کوہاٹ کے علاقے کے ڈی اے میں کارروائی کرتے ہوئے عاصمہ رانی قتل کیس کے مرکزی ملزم مجاہداللہ آفریدی کے قریبی دوست شاہزیب کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار ملزم اپنے دوست کیلئے عاصمہ رانی کی جاسوسی کیا کرتا تھا جبکہ واردات کے بعد اس نے ملزم

کو بیرون ملک فرار میں بھی مدد فراہم کی۔

پولیس کے مطابق عاصمہ رانی قتل کیس کے مرکزی ملزم مجاہد اللہ کاقریبی دوست شاہ زیب گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزم شاہ زیب کوہاٹ کے علاقے کے ڈی اے میں رہتا ہے جبکہ عاصمہ رانی کا قتل بھی کوہاٹ میں ہی ہوا ہے۔ ملزم شاہ زیب مقتولہ عاصمہ پر نظر رکھتا تھا اور اس کی جاسوسی کرکے اس سے متعلق معلومات مرکزی ملزم مجاہد کو دیتاتھا۔عاصمہ رانی کے قتل والے دن ملزم شاہ زیب مجاہد کے ساتھ تھا ، واردات کے بعد شاہزیب نے ہی مرکزی ملزم کو بیرون ملک فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔دوسری جانب عاصمہ رانی کے قتل کے وقت مرکزی ملزم مجاہد اللہ کے ساتھ آنے والے ملزم صادق کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے اور اس کی نشاندہی پر آلہ قتل برآمد کرلیاگیا ہے۔

واضح رہے کہ ایبٹ آباد میڈیکل کالج کی تھرڈ ائیر کی طالبہ عاصمہ چھٹیوں پر کوہاٹ آئی تھی جہاں اسے 27 جنوری کو اس وقت اسے گولیوں سے نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی بھابھی کے ساتھ رکشہ پر گھر پہنچی تھی ۔ عاصمہ کے گھر پہنچنے سے قبل ہی ملزم مجاہد اپنے ساتھی صادق کے ساتھ گھر کے باہر موجود تھا

جس نے موقع پر ہی فائرنگ کردی ، عاصمہ کو تین گولیاں لگیں جبکہ ملزمان فرار ہوگئے۔میڈیکل کی طالبہ کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ ایک روز بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔عاصمہ کی جانب سے ہسپتال میں دیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اس پر فائرنگ کرنے والا مجاہد آفریدی تھا۔یاد رہے عاصمہ رانی قتل کیس میں نامزد ملزم صادق اللہ کے ریمانڈ میں مزید ایک روز کی توسیع کردی گئی جبکہ بیرون ملک فرار مرکزی ملزم مجاہد آفریدی کی گرفتاری کے لئے کوششیں جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق عاصمہ رانی قتل کے مقدمے میں کے پی کےپولیس نےنامزد ملزم صادق اللہ کو سول جج ون کوہاٹ کی عدالت میں پیش کیا اور ریمانڈ میں تین دن توسیع کرنے کی استدعا کی، جس پرعدالت نے ریمانڈ میں ایک روز کی توسیع کردی۔قتل کے مرکزی ملزم مجاہد اللہ آفریدی کی گرفتاری کیلئے کے پی کے پولیس کی درخواست پر ایف آئی اے نےانٹرپول سے مدد طلب کرلی اور ملزم سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کردی۔یاد رہے کہ کوہاٹ پولیس نے میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کے قتل میں نامزد مرکزی ملزم مجاہداللہ آفریدی کا بھائی صادق آفریدی کوگرفتار کرکے میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ڈی پی اوکوہاٹ کا کہنا تھا کہ دوسرا ملزم بھی جلدقانون کی گرفت میں ہوگا، تفتیشی ٹیم نے فوری رابطہ کرکے ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالےگئے، پولیس اور تحقیقاتی اداروں کی طرف سے کوئی غفلت نہیں ہوئی۔واضح رہے گزشتہ ہفتے مجاہد اللہ آفریدی نے رشتے سے انکار پرمستقبل کی ڈاکٹر ،عاصمہ رانی کو گولیاں مار کرکے قتل کردیا تھا اور سعودی عرب فرارہوگیا تھا۔مقتولہ نے دم توڑنے سے قبل اپنے اہل خانہ کو مجاہد آفریدی کا نام بتایا تھا۔(ذ،ک)

بڑی پابندی عائد، مریم نواز کی کوریج نہیں ہو گی، ٹی وی چینلزکو حکم جاری کر دیا گیا

اسلام آباد (م ل)مریم نواز کا گوجرانوالہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب، نجی ٹی وی چینلز کو کوریج سے روک دیا گیا، صرف پی ٹی وی کو کوریج کی اجازت۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے آج گوجرنوالہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کیا ہے۔ ان کے خطاب سے قبل ن لیگ کی جانب سے تمام نجی ٹی وی چینل کو کوریج سے روک دیا گیا تھا

اور صرف پی ٹی وی وی کوریج کی اجازت دی گئی تھی۔ ن لیگ کی جانب سے مریم نواز کے حوالے سے میڈیا پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بعد اب ان کے بیانات اور ٹی وی کوریج صرف پی ٹی وی پر ہی کی جائے اور وہ اب صرف پی ٹی وی پر ہی نظر آئیں گی۔ مریم نواز کے حوالے سے اس پالیسی کے پیچھے ن لیگ کی جانب سے کوئی توجہ تاحال بیان نہیں کی گئی۔

راؤ انوار کی گرفتاری،حساس ادارے متحرک ،کہاں کہاں چھاپے مارے،نتیجہ کیا نکلا

کراچی(آن لائن)مبینہ پولیس مقابلے میں 13 جنوری کو مارے گئے نقیب اللہ محسود کے قتل کیس میں نامزد سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت کی گرفتاری کے لیے ملیر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے۔ذرائع کے مطابق حساس ادارے نے چھاپے راؤ انوار اور سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت کی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں پر مارے، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹنے نقیب اللہ محسود کے قتل کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے بعد انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ اے ڈی خواجہ کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے مزید 10 دن کا وقت دیا تھا۔سماعت کے دوران آئی جی سندھ نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی تھی کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کہا جائے کہ راؤ انوار کی گرفتاری میں ان کی معاونت کریں۔جس پر سپریم کورٹ نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سندھ پولیس کی معاونت کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)، انٹرسروسز انٹیلی جنسی (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) راؤ انوار کو ڈھونڈنے میں پولیس کو مکمل سپورٹ فراہم کریں۔واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 13 جنوری کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے کے دوران 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، جن میں 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود بھی شامل تھا۔بعدازاں نقیب اللہ محسود کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا۔بعدازاں آئی جی سندھ کی جانب سے تشکیل دی گئیتحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کی، جس کے باعث انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا،

جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملے کا از خود نوٹس لیا۔گذشتہ ماہ 27 جنوری کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پولیس کو راؤ انوار کو گرفتار کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔ان کی تلاش میں اسلام آباد میں بھی چھاپہ مارا گیا، لیکن راؤ انوار کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔جس کے بعد سپریم کورٹ نے یکم فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران آئی جی سندھ کو راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے مزید 10 دن کی مہلت دی اور ساتھ ہی حساس اداروں کو بھی اے ڈی خواجہ کی معاونت کی ہدایت دی۔

 

میں گھر میں اکیلی تھی کہ دو لڑکے دیوار پھلانگ کر اندر آگئے اور گن پوائنٹ پر مجھے برہنہ کیا، میں زمین پر گر گئی اور اس کے ساتھ ہی زمین ہلنے لگ گئی، زلزلے کے دوران خیبرپختونخوا کی لڑکی کیساتھ کیا ہوا؟

 (مبشر لقمان)گزشتہ روز آنیوالے زلزلے نے جہاں پاکستان بھر کو ہلا کر  رکھ دیا وہاں کئی ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جو کئی سالوں تک لوگوں کے ذہنوں میں محو رہیں گے۔ اسی طرح کی ایک خبر خیبرپختونخواہ سے بھی موصول ہوئی نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخواہ کے علاقہ چارسدہ کے تھانے پڑانگ کی حدود میں میاں کلے میں زلزلے کے

کچھ دیر پہلے و اوباش نوجوانوں واصف اور اعظم دیوار پھلانگ کر فقیر گل نامی شخص کے گھر داخل ہو گئے اور اس کی 16سالہ بیٹی ’ع‘ کو گن پوائنٹ پر کمرے کے اندر لے گئے اور زبر دستی ان کے کپڑے اتا ر کر ویڈیو بنا کر بد فعلی کی کو شش کر رہے تھے کہ اس دوران خوفناک زلزلہ آگیا جس سے خواس باختہ ہو کر ملزمان فرار ہو گئے ۔تھانہ پڑانگ میں متاثرہ لڑکی نے پولیس کو رپورٹ درج کر تے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ ختم القرآن کیلئے رشتہ داروں کے گھر گئی تھی اور وہ گھر میں اکیلی تھی کہ اس دوران مذکورہ ملزمان دیوار پھلانگ کر گھر کے اندر داخل ہوئے۔ دونوں ملزمان پستول تان ان کو زبر دستی کمرے کے اندر لے گئے ۔ایس ایچ او تھانہ پڑانگ منصور خان کا کہنا ہے کہ شکایت موصول ہوتے ہی پولیس نے ضروری کارروائی سے قبل میڈیکل کیلئے مقامی ہسپتال بھیجا جہاں سے میڈیکل رپورٹ موصول ہو گئی ہے جس میں زیادتی کا کوئی ذکر نہیں تاہم ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس نے کارروائی شروع کر دی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی خیبرپختونخواہ میں کوہاٹ کے علاقہ میں ایک جوان طالبہ کو شادی سے انکار پر قتل کر دیا گیا ہے جبکہ مردان میں 4سالہ ننھی بچی اسما کو زیادتی کے بعد قتل کرکے اس کی لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی تھی۔ خیبرپختونخواہ میں جنسی درندگی کے پے درپے واقعات سامنے آنے پر پورے ملک میں تشویش کی لہر محسوس کی جا رہی ہے۔